ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں۔کشمیر: کئی دہائیوں سے خستہ حالی کاشکار رامسواسپتال، 3کمروں کی عمارت میں دےرہا ہےخدمات انجام

رامسو اسپتال کو کئی بار حکومت و انتظامیہ نے ایکسیڈینل اسپتال بنانے کا اعلان کیا لیکن کئی دہائیوں کے بعد بھی آج تک یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ جموں کشمیر میں منتخب حکومتوں کے دور میں سب ڈویژن رامسو کے ساتھ استحصال تو یقینی طور سے ہوا لیکن گورنر انتظامیہ یا لیفٹننٹ گورنر انتظامیہ بھی رامسو کو اسکا بنیادی حق دینے میں ناکام ہوکر رہے۔ مقامی نوجوان ظہور احمد سوہل نے نیوز 18اردو کو بتایا کہ رامسو اسپتال کو اگر آج کے اس کورونا وباء کے مشکل وقت میں بھی وسعت نہیں دی گئی تو یہ یہاں کی عوام کے ساتھ ۔سخت نا انصافی ہوگی۔

  • Share this:
جموں۔کشمیر: کئی دہائیوں سے خستہ حالی کاشکار رامسواسپتال، 3کمروں کی عمارت میں دےرہا ہےخدمات انجام
رامسو اسپتال کو کئی بار حکومت و انتظامیہ نے ایکسیڈینل اسپتال بنانے کا اعلان کیا لیکن کئی دہائیوں کے بعد بھی آج تک یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ جموں کشمیر میں منتخب حکومتوں کے دور میں سب ڈویژن رامسو کے ساتھ استحصال تو یقینی طور سے ہوا لیکن گورنر انتظامیہ یا لیفٹننٹ گورنر انتظامیہ بھی رامسو کو اسکا بنیادی حق دینے میں ناکام ہوکر رہے۔ مقامی نوجوان ظہور احمد سوہل نے نیوز 18اردو کو بتایا کہ رامسو اسپتال کو اگر آج کے اس کورونا وباء کے مشکل وقت میں بھی وسعت نہیں دی گئی تو یہ یہاں کی عوام کے ساتھ ۔سخت نا انصافی ہوگی۔

جموں کشمیر: سب ڈویژن رامسو میں واقع گورنمنٹ پرائمری ہیلتھ  سینٹر رامسو کا اسٹاف گزشتہ کئی دہائیوں سے تین کمروں کی عمارت میں عوامی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی شاہراہ پر واقع اس اسپتال میں ایک کمرہ او پی ڈی ایک کمرے میں دو بیڈ اور باتھروم جو لیبر روم میں تبدیل کیاگیا ہے وہیں ایک  کمرے میں بچوں کی ویکسینیشن اور لیبارٹری ٹیسٹ کئےجاتے ہیں۔


رامسو اسپتال کو کئی بار حکومت و انتظامیہ نے ایکسیڈینل اسپتال بنانے کا اعلان کیا لیکن کئی دہائیوں کے بعد بھی آج تک یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ جموں کشمیر میں منتخب حکومتوں کے دور میں سب ڈویژن رامسو کے ساتھ استحصال تو یقینی طور سے ہوا لیکن گورنر انتظامیہ یا لیفٹننٹ گورنر انتظامیہ بھی رامسو کو اسکا بنیادی حق دینے میں ناکام ہوکر رہے۔ کئی عوامی وفود جموں و سرینگر سکریٹریٹ اور ضلع انتظامیہ سے دیرینہ مانگ کا مطالبہ کرتے رہے کہ جمو سرینگر قومی شاہراہ کا سب سے خونی حصہ رامبن اور بانہال کے درمیان میں واقع ہے اور اسکا مرکز رامسو آتا ہے یہاں خطرناک سڑک حادثات پیش آتے رہتے اور بروقت طبی سہولت نہ ملنے سے کئی لوگ اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔ اس لئے رامسو میں ایکسیڈینل اسپتال کا ہونا نہایت ہی ضروری ہے لیکن عوام مانگ کو ہمشیہ سرد خانے میں ڈال دیا جاتا رہا ہیں۔


چونکہ سب ڈویژن رامسو کا زیادہ تر حصہ نہایت ہی مشکل ترین پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں سے عوام پیدل سفر کر کے رامسو اسپتال پہنچتی لیکن خستہ حال اسپتال میں بنیادی علاج نہ ملنے کی وجہ سے ہمشیہ انہیں رامبن یا جموں و سرینگر ریفر کیا جاتا ہے غریب عوام کے ساتھ ہورہے اس استحصال کا کوئی پرسان حال نہیں ہے مقامی نوجوان ظہور احمد سوہل نے نیوز ایٹین اردو کو بتایا کہ رامسو اسپتال کو اگر آج کے اس کرونا وباء کے مشکل وقت میں بھی وسعت نہیں دی گئی تو یہ یہاں کی عوام کے ساتھ ۔سخت نا انصافی ہوگی۔

First published: Apr 15, 2020 08:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading