ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوپی اسمبلی انتخابات سے قبل جاری متنازعہ ’پوسٹر جنگ‘ میں ایک کانگریسی لیڈر بھی كودا

لکھنؤ۔ اترپردیش میں اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات سے پہلے سیاسی طاقت آزمائش کے لئے ’’پوسٹر جنگ‘‘ تیزی پکڑ رہی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے بعد اب کانگریس کا ایک رہنما بھی اس لڑائی میں کود پڑا ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: May 02, 2016 07:57 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
یوپی اسمبلی انتخابات سے قبل جاری متنازعہ ’پوسٹر جنگ‘ میں ایک کانگریسی لیڈر بھی كودا
لکھنؤ۔ اترپردیش میں اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات سے پہلے سیاسی طاقت آزمائش کے لئے ’’پوسٹر جنگ‘‘ تیزی پکڑ رہی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے بعد اب کانگریس کا ایک رہنما بھی اس لڑائی میں کود پڑا ہے ۔

لکھنؤ۔ اترپردیش میں اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات سے پہلے سیاسی طاقت آزمائش کے لئے ’’پوسٹر جنگ‘‘ تیزی پکڑ رہی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے بعد اب کانگریس کا ایک رہنما بھی اس لڑائی میں کود پڑا ہے ۔

گورکھپور میں چسپاں کیے گئے ایسے پوسٹروں میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کو ’’دبنگ‘‘ اور ’’سنگھم‘‘ جیسے پولیس اہلکار کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس پوسٹر میں راہل کو ’’عام آدمی کا محافظ‘‘ نام دے کر ’’مٹیں گے ظلم‘‘نعرہ لکھا ہے۔


پوسٹر میں صوبے کے رہنماؤں کے ’’كارناموں‘‘ کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو کی مجرمانہ اور فرقہ وارانہ قوتوں، بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کی کرپشن، بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کو فساد کرانے اور آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کو سماج میں نفرت پھیلانے والوں کا سرپرست بتایا گیا ہے۔ یہ پوسٹر کانگریس کی گورکھپور ضلع یونٹ کے جنرل سکریٹری انور حسین کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس میں ان لیڈروں کو پولیس يونيفارم میں راہل گاندھی کے سامنے جھک کر معافی مانگتے دکھایا گیا ہے۔


بعد میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں مسٹر حسین نے اپنے پوسٹر کو صحیح بتاتے ہوئے کہا کہ دراصل اس میں پردیش کی اصل صورت حال کو دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عوام نے ان جماعتوں کو سر آنکھوں بٹھایا لیکن انہوں نے صوبے کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ لوگوں کو اب اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور وہ 30 سال بعد کانگریس کو اقتدار میں واپس لائیں گے۔ اس کے پہلے وارانسی کے ایک رہنما کی طرف سے تقسیم ایک پوسٹر میں بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے صدر کیشو پرساد موریہ کو کرشن کی شکل میں اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کو اتر پردیش کو دروپدي کی طرح تار تار کرتے دکھایا گیا تھا۔ بعد میں ہاتھرس کے ایک رہنما کی طرف سے شائع ایک پوسٹر میں بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی کو ’’کالی‘‘ کی شکل میں پیش کرکے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بی جے پی لیڈروں کو کچلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔


First published: May 02, 2016 07:57 PM IST