உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سرکار اور عوام کے باہمی تعاون سے بہتر ہوسکتی ہے بجلی کی فراہمی 

    اتر پردیش میں بجلی کی قلت کو لے کر آوازیں ہمیشہ اٹھتی رہتی ہیں لوگوں کو شکایت ہے کہ مہنگی بجلی ہونے کے بعد بھی مناسب سپلائی نہیں دی جاتی جبکہ بجلی محکمے کے لوگ عوامی تعاون نہ ملنے کی بات کرتے ہیں۔ سرکار اور عوام کے باہمی تعاون سے ہی حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

    اتر پردیش میں بجلی کی قلت کو لے کر آوازیں ہمیشہ اٹھتی رہتی ہیں لوگوں کو شکایت ہے کہ مہنگی بجلی ہونے کے بعد بھی مناسب سپلائی نہیں دی جاتی جبکہ بجلی محکمے کے لوگ عوامی تعاون نہ ملنے کی بات کرتے ہیں۔ سرکار اور عوام کے باہمی تعاون سے ہی حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

    اتر پردیش میں بجلی کی قلت کو لے کر آوازیں ہمیشہ اٹھتی رہتی ہیں لوگوں کو شکایت ہے کہ مہنگی بجلی ہونے کے بعد بھی مناسب سپلائی نہیں دی جاتی جبکہ بجلی محکمے کے لوگ عوامی تعاون نہ ملنے کی بات کرتے ہیں۔ سرکار اور عوام کے باہمی تعاون سے ہی حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

    • Share this:
    لکھنئوگرمی کی شدت میں بجلی کے بڑھتے بحران اور عوامی مطالبات نے حالات کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے ، بارش نہ ہونے اور درجہء حرارت میں مسلسل اضافہ ہونے کے سبب ٹرانسفارمرز میں آگ لگنے تاروں کے پگھل کر گرنے کی شکایتیں عام ہیں ساتھ ہی ، کٹیا لگانے والے بجلی چوروں کے سبب صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے ، ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا لوگوں کی بجلی جیسی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جارہے ہیں ؟ لکھنئو ٹھاکر گنج سرفراز گنج دو بگّا اور اسمٰعیل گنج سمیت مختلف علاقوں میں کٹیا ڈالُکر بجلی چوری کرنے کی شکایتیں عام ہیں ، حالانکہ بجلی چوری روکنے کے لئے محکمے کے لوگ مسلسل کوششیں کررہے ہیں، چھاپے مارے جارہے ہیں ، جرمانا لگایا جارہاہے لیکن عوامی تعاون نہ ہونے کے سبب بجلی چوری روکنے میں سو فیصد کامیابی نہیں مل پا رہی ہے ۔

    محکمے کے ایگزیکٹو انجینئر سنجے مشرا کا شمار محنتی ایماندار اور عوام سے ہمدردی رکھنے والے افسران میں کیا جاتا ہے لیکن جب وہ بجلی کی فراہمی ، شکایات کا سدِّ باب اور عوامی تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو واقعی یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ حالات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکیں گے جب تک لوگ سنجیدگی اور ایمانداری سے بجلی کے محکمے اور اس کے ملازمین و افسران کا تعاون نہ کریں ، سنجیو مشرا کہتے ہیں کہ گزشتہ تین ماہ سے رات میں دو سے تین گھنٹے بھی ٹھیک سے نہیں سو پاتے ہیں ذرا سی دیر کو کسی بھی سبب سے بجلی چلی جائے تو لوگ فوراً بغیر کچھ سوچے سمجھے فون کردیتے ہیں۔ سنجیو مشرا کے مطابق پرانے لکھنئو کے اندرونی علاقوں میں بجلی چوری کرنے والوں کی بڑی تعداد ہے جب چیکنگ کرنے ٹیم پہنچتی ہے تو لوگ جلدی جلدی کٹیا ہٹاتے ہیں اور اسی میں بڑے فالٹ ہوجاتے ہیں ، گھنی آبادی والے علاقوں میں بیشتر ٹرانسفارمرایسی جگہ رکھے ہیں جہاں آس پاس کوڑا ڈمپ کیا جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ہر وقت آگ لگنے کا خدشہ بنا رہتا ہے پرانے ٹرانسفارمروں اور تاروں پر ضرورت سے کہیں زیادہ لوڈ ہے جس کی وجہ سے گرمی کے موسم میں شکایات میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔

    لوگوں کے تعاون اور ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب کسی ٹرانسفارمر میں آگ لگتی ہے تو لوگ آگ بجھانے یا اطلاع دینے کے بجائے ویڈیو بناکر لطف لینے میں مصروف ہوجاتے ہیں اگر ایسے وقت میں اپنی بیداری اور ذمہداری کا ثبوت دیں تو بڑے حادثے ٹل سکتے ہیں بڑے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے ۔ سنجیو مشرا یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی بھی علاقے میں کسی سبب سے اگر دس منٹ کے لئے بھی بجلی چلی جائے تو بیس فون آجائیں گے ، فون آنا کوئی بری بات نہیں ہم چوبیس گھنٹے فون سیوا پر بھی موجود ہیں لیکن صارفین شکایت کرنے کے ساتھ ساتھ جو دھمکیاں دیتے ہیں جو زبان استعمال کرتے ہیں ان سے ملازمین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ایک اہم اور بنیادی مسئلہ لوگوں کی متعصبانہ ذہنیت کا بھی ہے جس کو بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں اگر عید یا محرم کے موقع پر کسی سبب سے بجلی چلی جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ جان بوجھ کر بجلی محکمے کے لوگ ایسا کررہے ہیں اور اگر بجلی ہولی دیوالی کے موقع پر چلی جائے تو یہ کہا جاتا ہے کہ عید اور محرم پر تو خوب بجلی دیتے ہو۔ہولی دیوالی پر کٹوتی کرتے ہو۔

    یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔بنیادی بات یہی ہے کہ محدود وسائل میں سرکار اور عوام کے تعاون سے حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ، لوگوں کو سوچنا پڑے گا کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دن رات کام کرنے والے بجلی ملازمین کے ساتھ یہ سلوک کس حد تک جائز ہے ۔معروف صھافی پرویز احمد کہتے ہیں کہ اتر پردیش میں بجلی بہت مہنگی ہے اور قصبات و دیہات میں تو مناسب وقت پر بجلی نہ ملنے سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے لیکن ان تمام حالات کے باوجود اگر لوگ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو حالات کچھ بہتر ضرور ہوسکتے ہیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: