ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

حکومت کی طرف سے 200 پوائنٹ والے روسٹر سسٹم کے لئے التزام کے اشارے

پرکاش جاوڈیکر نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ مودی حکومت سماجی انصاف کے حق میں ہے اور وہ 200 پوائنٹ والے روسٹر سسٹم کو نافذ کرے گی اور دو دن میں ٹیچروں کو انصاف مل جائے گا

  • UNI
  • Last Updated: Mar 05, 2019 05:48 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
حکومت کی طرف سے 200 پوائنٹ والے روسٹر سسٹم کے لئے التزام کے اشارے
پرکاش جاوڈیکر : فائل فوٹو

مودی حکومت نے یونیورسٹیوں اور کالجوں کے ٹیچروں کی تقرری کے لئے ریزرویشن کے معاملے میں 200 پوائنٹ والے روسٹر سسٹم کو ناٖفذ کرنے کے لئے التزام لانے کے اشارے دئے ہیں۔ انسانی وسائل کی ترقی کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے ریزرویشن کے سلسلے میں منگل کو’بھارت بند‘کے دن صبح اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں کے سامنے اس کے واضح اشارے دئے۔ انہوں نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ مودی حکومت سماجی انصاف کے حق میں ہے اور وہ 200 پوائنٹ والے روسٹر سسٹم کو نافذ کرے گی اور دو دن میں ٹیچروں کو انصاف مل جائے گا۔ واضح رہے کہ بدھ کو کابینہ کی مجوزہ میٹنگ ہے جس میں التزام کو منظوری ملنے کا امکان ہے۔


انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 13پوائنٹ والے روسٹر سسٹم کو جب جائز ٹھہرا دیا تو حکومت نے نظر ثانی عرضی دائر کی لیکن عدالت نے اسے خارج کردیا۔ ان کا خیال ہے کہ روسٹر کے لئے محکمہ نہیں بلکہ یونیورسٹی اکائی ہو، اس لئے وہ 200پوائنٹ والے روسٹر کے حق میں ہیں اور اسے نافذ کریں گے ۔بس دو دن رک جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں وعدہ کر چکے تھے کہ 200پوائنٹ والا ہی روسٹر نافذ کیا جائےگا۔اس لئے آج ہندوستان بند کرنے والے ٹیچروں سے وہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ دو دن رک جائیں ،انہیں انصاف مل جائے گا۔


قابل ذکر ہے کہ دہلی یونیورسٹی ٹیچرس یونین نے آج بھارت بند کے سلسلے میں ریلی بھی نکالی اور مظاہرہ بھی کیا۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے بھی کل مرکزی کمیٹی کی میٹنگ میں التزام لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پہلے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے سابق رکن اور بی جے پی حامی مشہور ٹیچر لیڈر اندر موہن کپاہی اور اے کے بھاگی نے وزیراعظم نریندر مودی اور  جاوڈیکر کو خط لکھ کر 200پوائنٹ والے روسٹرسسٹم کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈوٹا اور دیگر ٹیچرس تنظیمیں گزشتہ ایک سال سے یہ مطالبہ کرتی آ رہی تھیں اور اس کے لئے دہلی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ہڑتال کررہے تھے۔


الہ آباد یونیورسٹی کے ذریعہ 13پوائنٹ والے روسٹ کو جائز ٹھہرانے اور پھر سپریم کورٹ کے ذریعہ اس فیصلے کو برقرار رکھنے کی وجہ سے دلت آدیواسی اور پسماندہ طبقے کے ٹیچر نوکری سے محروم ہوگئے تھے۔ اس فیصلے سے دہلی کے چار ہزار ایڈہاک ٹیچروں پر تلوار لٹک گئی تھی۔

First published: Mar 05, 2019 05:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading