உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کاربن کے اخراج میں کمی کرنے کی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہ ہٹیں ترقی یافتہ ممالک: جاوڈیکر

    نئی دہلی۔  جنگلات و ماحولیات کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے عالمی حدت کے خطرے کو ایچ آئی وی ایڈز سے بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو کاربن کے اخراج میں کمی کرنے کی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔

    نئی دہلی۔ جنگلات و ماحولیات کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے عالمی حدت کے خطرے کو ایچ آئی وی ایڈز سے بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو کاربن کے اخراج میں کمی کرنے کی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔

    نئی دہلی۔ جنگلات و ماحولیات کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے عالمی حدت کے خطرے کو ایچ آئی وی ایڈز سے بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو کاربن کے اخراج میں کمی کرنے کی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  جنگلات و ماحولیات کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے عالمی حدت کے خطرے کو ایچ آئی وی ایڈز سے بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو کاربن کے اخراج میں کمی کرنے کی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔


      مسٹر جاوڈیکر نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اس سلسلے میں اعلی سطحی مذاکرات میں شرکت کے لئے روانہ ہونے سے قبل یو این آئی سے بات چیت میں امید ظاہر کی کہ موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والی عالمی کانفرنس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہندستان کا کردار انتہائی مثبت ہے اور وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو تیار ہے۔ ہندستان نے کاربن کے اخراج میں کمی کے جس ہدف کا اعلان کیا ہے وہ کافی بڑا ہے اور اس سے ہندستان کی ذمہ داری ادا ہو رہی ہے۔ جنگلات و ماحولیات کے وزیر نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے درپیش مسئلہ میں ہندستان کا کوئی کردار نہیں ہے لیکن وہ اس کے حل میں بڑا پارٹنر بننے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو اپنی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے کاربن کے اخراج میں کمی کے اپنے اہداف کو پورا کرنا ہوگا۔ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ وقت وقت پر جو باتیں ہوئی ہیں اور ان میں جن پر اتفاق ہوا ہے وہ اب پیرس میں ابھر کر سامنے آنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ماحولیات پر پڑ رہے اثر اور تباہی کے واقعات سے سبھی کو صورت حال کی سنگینی کا احساس ہو رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سمیت تمام بڑے ملک اپنا تعاون پیش کریں گے۔


      مسٹر جاوڈیکر نے کہا کہ عالمی حدت سے ہونے والے خطرے مہلک مرض ایچ آئی وی ایڈز سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ غیر معمولی مسئلہ ہے اس لئے اس سے نمٹنے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے اور بڑی پہل کرنی ہوگی۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے بہت زیادہ مالی وسائل کی ضرورت ہو گی۔اس کے لئے ترقی یافتہ ممالک کو ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لئے آگے آنا ہوگا اور انہیں نہ صرف مالی مدد کرنی ہوگی بلکہ ضروری ٹیکنالوجی بھی دینی ہوگی۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کوپیچیدہ بنانے کے بجائے سب کو مل کر اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں ہے اور سب کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کے مطابق قدم اٹھانے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہندستان نے کاربن کے اخراج میں کمی کے لئے کافی قدم اٹھائے ہیں اور اس سمت میں ابھی آگے اقدامات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندستان نے شمسی توانائی جیسی قابل تجدید توانائی کے متبادل کا راستہ دکھایا ہے اور یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی تجویز ہے جس میں اس نے 100 ممالک کا ایک کلب بنا کر شمسی توانائی میں اضافہ کرنے کا عہد کیا ہے۔


      مسٹر جاوڈیکر نے کہا کہ اسی طرح کے کچھ اور قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے جیسے کہ کاربن کے اخراج میں کمی کے اپنے مقاصد کو پورا کرنے والے ممالک کی ستائش کی جا سکتی ہے۔ ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ایک نظام بنائے جانے کی بھی انہوں نے وکالت کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک اس سلسلے میں متحد ہیں اور وہ مل کر اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین بھی اس معاملے پر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ہے۔

      First published: