ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہریانہ جاٹ تحریک پر کمیٹی نے سونپی رپورٹ ، متعدد آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے دامن داغدار

نئی دہلی : ہریانہ میں جاٹ تحریک کے دوران تشدد سے متعلق پرکاش سنگھ کمیٹی نے وزیر اعلی ایم ایل کھٹر کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے ۔

  • Agencies
  • Last Updated: May 13, 2016 12:50 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہریانہ جاٹ تحریک پر کمیٹی نے سونپی رپورٹ ، متعدد آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے دامن داغدار
نئی دہلی : ہریانہ میں جاٹ تحریک کے دوران تشدد سے متعلق پرکاش سنگھ کمیٹی نے وزیر اعلی ایم ایل کھٹر کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے ۔

نئی دہلی : ہریانہ میں جاٹ تحریک کے دوران تشدد سے متعلق پرکاش سنگھ کمیٹی نے وزیر اعلی ایم ایل کھٹر کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے ۔ رپورٹ میں کمیٹی نے کئی پولیس افسران کے ذریعہ کام میں کوتاہی برتنے کی بات کہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر روہتک ضلع کے ہیں۔

پرکاش سنگھ نے کہا کہ ذات کی بنیاد پر کوئی تجزیہ نہیں کیا گیا ہے۔ میرے تعاون کے لئے دو افسران تھے۔ ہریانہ میں جو واقعات پیش آئے ، انہیں دیکھ کر ہمیشہ افسوس ہوگا، کبھی فخر نہیں کریں گے۔ 8 اضلاع کو ہم نے نشان زد کیا تھا ، جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ ٹیم روہتک، جھجھر، جند، حصار، کیتھل، بھیوانی، سونی پت اور پانی پت اضلاع میں گئی۔ ہم نے جائے واقعات کا دورہ کیا اور متاثرین سے بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ضلع میں 250 سے 400 لوگ ہم سے ملنے آئے۔ سب کی بات ہم نے صبر سے سنی۔ متعدد لوگوں نے تحریری میمورنڈم بھی دیا۔ ہمیں 143 ویڈیو فوٹیج ملے ۔مجموعی طور پر 2217 لوگوں سے ہم نے ملاقات کی ۔ بہت سے لوگوں نے اپنے بیانات درج کرائے۔ ہم نے اپنی جانچ کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی، جسے ہم وزارت داخلہ کے سپرد کر دیں گے۔ حکام کو ہم نے ایک سوالنامہ بھی دیا تھا۔ ہر ضلع میں تقریبا 40-50 افسران سے ملاقات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ 45 دن کی ڈیڈ لائن کافی کم تھی۔ رپورٹ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ پہلی جلد میں 414 صفحات ہیں۔ نصف میں رپورٹ ہے ، جو ہماری طرف سے تیار کی گئی ہے۔ دوسری جلد خفیہ ہے، جو صرف محکمہ داخلہ کو دیا جائے گا۔ اس میں 37 صفحات ہیں۔ اس کے مواد کو عام کرنا حکومت کا حق ہے۔ ہم نے اپنی طرف سے صرف واقعات کا تجزیہ کیا ہے اور حکام کے کردار کا جائزہ لیا ہے۔

کچھ لوگوں نے فوری طور پر کارروائی کی اور کچھ لوگوں نے غیر سماجی عناصر کو چھوٹ دی۔ رپورٹ میں ہم نے اس کی نشاندہی کی ہے۔ ہم نے کسی قسم کی بھی تادیبی کارروائی کی بات نہیں کہی ہے ۔ یہ حکومت دیکھے گی کہ ان کے خلاف کیا کارروائی کی جانی چاہئے۔ کچھ آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران کے بارے میں بھی منفی تبصرہ ہے۔ سپاہی اور ہیڈ کانسٹبل کو جانچ کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ہم نے سب انسپکٹر انچارج سے شروع کرکے ایس پی تک کا اپنی رپورٹ میں احاطہ کیا ہے ۔ 90 افسران کے خلاف ہم نے تبصرہ کیا ہے، جس میں سے ایک تہائی روہتک میں ہی ہیں۔

سابق ڈی جی پی نے کہا کہ ان کے خلاف حکومت جلد سے جلد کارروائی کرے گی۔ مجھے اشارہ ملا ہے کہ وہ جلد سے جلد ایکشن ٹیكن رپورٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اگر ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی ، تو صحیح پیغام نہیں جائے گا۔ پولیس نظام ملک میں خستہ حال ہو رہا ہے، میں یہ بات بار بار کہتا آیا ہوں۔ کوئی بھی بڑا چیلنج آنے پر آپ ان سے توقع کرتے ہیں ، مگر وہ وہ یہ نہیں کرپائیں گے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہریانہ میں دیکھنے کو ملی ہے۔
First published: May 13, 2016 12:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading