உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوجوانوں کو جدت طرازی کی طرف راغب کرنے کی ضرورت : پرنب مکھرجی

    نئی دہلی۔  صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے  نوجوانوں کو جدت طرازی کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بنیادی سائنس میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لئے مصروف عمل ہے۔

    نئی دہلی۔ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے نوجوانوں کو جدت طرازی کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بنیادی سائنس میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لئے مصروف عمل ہے۔

    نئی دہلی۔ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے نوجوانوں کو جدت طرازی کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بنیادی سائنس میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لئے مصروف عمل ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے  نوجوانوں کو جدت طرازی کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بنیادی سائنس میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لئے مصروف عمل ہے۔ مسٹر پرنب مکھرجی نے یہاں ہندوستانی اور ہند نژاد سائنسدانوں کو سال 2015 کے لئے انفوسس ایوارڈ سے نوازنے کے بعد کہا کہ "ہم نوجوان قوم ہیں۔ سال 2020 تک ہندوستان دنیا کا سب سے نوجوان قوم بن جائے گا جس کی 64 فیصد آبادی کام کرنے کی عمر میں ہوگی۔ یہ صورتحال ہندوستان اور قومی معیشت کے لئے انتہائی مفید ہے۔ نوجوان آبادی مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) میں اپنا اہم کردار ادا کر سکے اس کے لئے انہيں اپنی پسند کی جدت کو منتخب کرنے کے لئے مسلسل حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔


      صدر جمہوریہ نے کہا کہ حکومت بنیادی سائنس میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے پابند عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ "مواصلات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی جدت طرازی نے دنیا کو کافی قریب لا دیا ہے۔ انٹرنیٹ نے ہماری زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے۔ ہم کس طرح ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں اور ہمارے ارد گرد کی دنیا کو کس طرح دیکھتے ہیں، اس پر ورلڈ وائڈ ویب کے اثرات مسلسل رہتا ہے"۔ مسٹر پرنب مکھرجی نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ نوجوانوں کو اپنی تحقیق کرنے کے واسطے سازگار ماحول ملے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت جلد ہی ملک بھر میں مشاورتی عمل کو شروع کرنے کی تیاری میں ہے جس کا مقصد سروسلبھ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اولین پالیسی تیار کرنا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پالیسی 2020 موجودہ صدی میں ملک کی تکنیکی خود انحصاری کی سمت طے کرے گی۔ انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کے میدان میں جواہر لال نہرو سینٹر فار ایڈوانسڈ ریسرچ بنگلور کے پروفیسر امیش واگھمورے کو ، ریاضی کے لئے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف بنیادی تحقیق ممبئی کے پروفیسر مہان مہاجن کو، انسانی علوم کے لئے نیو یارک یونیورسٹی میں پروفیسر جناردن گنیری کو، حیاتیات کے لئے بین الاقوامی سینٹر فار جینیاتی انجینئرنگ اینڈ بایو ٹیکنالوجی کے امت شرما کو، طبیعیاتی سائنس کے لئے ٹی اے ایف آر کے سینئر پروفیسر جی رویندر کمار کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 


      مسٹر مکھرجی نے تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد دی اور ان کی شاندار شراکت داری کے لئے شکریہ ادا کیا۔ صدر جمہوریہ نے ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ "ٹیکنالوجی مالیاتی شمولیت اور صحت جیسی اہم خدمات لوگوں تک پہنچانے کے ذریعہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے صحت اور تعلیم کی فراہمی کو بہتر بنایا ہے جس سے لاکھوں لوگوں کا معیار زندگی سدھرا ہے"۔ ایوارڈ یافتگان کو 65-65 لاکھ روپے، طلائی تمغہ اور سند دیے گئے۔

      First published: