உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پرشانت بھوشن کا سپریم کورٹ سے معافی مانگنے سے انکار، بولے۔ دکھاوے کی معافی میرے ضمیر کی توہین ہوگی

    پرشانت بھوشن کی فائل فوٹو

    پرشانت بھوشن کی فائل فوٹو

    بتا دیں کہ سپریم کورٹ کی توہین کے معاملے میں منگل کو سماعت ہونی ہے۔ پچھلی سماعت میں عدالت نے بھوشن کو دو دن سوچنے کا وقت دیا تھا کہ اگر وہ اپنے ٹویٹ پر دوبارہ غور کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ توہین عدالت کیس میں وکیل پرشانت بھوشن (Prashant Bhushan) نے پیر کے روز سپریم کورٹ (Supreme Court) میں ایک نیا حلف نامہ داخل کیا ہے۔ انہوں نے معاملہ میں معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے صفائی میں کہا کہ ان کی طرف سے کیا گیا ٹویٹ عدالت اور آئین کے تحفظ کے لئے تھا۔

      پرشانت بھوشن نے کہا کہ وہ ان کا نظریہ تھا اور وہ اس پر قائم ہیں۔ پرشانت بھوشن نے سہریم کورٹ سے کہا کہ اپنے خیالات ظاہرکرنے پر شرط یا بغیر کسی شرط کے معافی مانگنا ٹھیک نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دکھاوے کی معافی مانگنا میرے ضمیر کی اور ایک ادارے کی توہین کے برابر ہو گا۔


      بتا دیں کہ سپریم کورٹ کی توہین کے معاملے میں منگل کو سماعت ہونی ہے۔ پچھلی سماعت میں عدالت نے بھوشن کو دو دن سوچنے کا وقت دیا تھا کہ اگر وہ اپنے ٹویٹ پر دوبارہ غور کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں۔
      اس کے بعد پیر کو پرشانت بھوشن نے نیا حلف نامہ داخل کر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھوشن نے دو الگ الگ ٹویٹ میں چیف جسٹس ایس اے بوبڈے اور چار سابق چیف جسٹس پر تبصرہ کیا تھا۔ ان پر حکومت کے ساتھ مل کر عدالت کا وقار ختم کرنے کا الزام لگایا تھا۔

      سپریم کورٹ نے پرشانت بھوشن کو عدالت کی توہین کا قصوروار مانا ہے۔ اب ان کو اس کی سزا سنائی جانی ہے۔ سزا سنانے سے پہلے عدالت نے انہیں آخری موقع دے کر معافی مانگنے کو کہا تھا۔ لیکن بھوشن نے جواب میں کہا کہ معافی مانگنا غلط ہو گا۔ ان کا مقصد عدالت یا کسی جج کی شبیہ خراب کرنا نہیں تھا۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: