உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمر خالد کی گرفتاری پر پرشانت بھوشن نے اٹھائے سوال، دلی پولیس کے لئے کہی یہ بات

    پرشانت بھوشن کی فائل فوٹو

    پرشانت بھوشن کی فائل فوٹو

    عمر خالد کی گرفتاری کو لے کر سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے سوال کھڑے کئے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی طرف سے جانچ کی آڑ میں پرامن کارکنان کو پھنسانے کی یہ سازش ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ دہلی فسادات (Delhi Riots)  کی مبینہ طور پر سازش رچنے کے معاملے میں جے این یو  (JNU) کے سابق طالب علم عمر خالد (Umar Khalid) کو دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے اتوار کی دیر رات گرفتار کر لیا ہے۔ عمر خالد کی گرفتاری کو لے کر سینئر وکیل پرشانت بھوشن (Prashant Bhushan ) نے سوال کھڑے کئے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی طرف سے جانچ کی آڑ میں پرامن کارکنان کو پھنسانے کی یہ سازش ہے۔ پرشانت بھوشن کی طرح ہی سوراج انڈیا (Swaraj India party) کے صدر یوگیندر یادو (Yogendra Yadav) نے بھی عمر خالد کی گرفتاری پر اپنی مخالفت درج کرائی ہے۔


      بتا دیں کہ عمر خالد کا نام دہلی فسادات کی تقریبا ہر چارج شیٹ میں ہے۔ عمر خالد کی گرفتاری غیر قانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت کی گئی ہے۔ دلی پولیس کی طرف سے کی گئی اس کارروائی کی مخالفت میں پرشانت بھوشن نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یچوری، یوگیندر یادو، جیتی گھوش اور اپوروا نند کا نام لینے کے بعد اب عمر خالد کی گرفتاری سے دلی فسادات کی جانچ کر رہی دلی پولیس کے بدنیتی پر مبنی نظریہ کو سمجھنے میں کوئی شک وشبہ نہیں بچا ہے۔ یہ پولیس کے ذریعہ جانچ کی آڑ میں پر امن کارکنان کو پھنسانے کی سازش ہے۔


      عمر خالد کی گرفتاری پر سوراج انڈیا کے صدر یوگیندر یادو نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ میں یہ خبر سن کر حیران ہوں کہ انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کا استعمال ایک نوجوان اور اصول پرست عمر خالد کو گرفتار کرنے کے لئے کیا گیا۔ جنہوں نے ہمیشہ ہی کسی نہ کسی طور پر تشدد اور فرقہ واریت کی مخالفت کی ہے۔ وہ بلاشبہ ان رہنماوں میں سے ہیں جو ہندستان کے حق دار ہیں۔ دہلی پولیس ہندستان کے مستقبل کو طویل عرصے تک حراست میں نہیں رکھ سکتی۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: