ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Prashant Bhushan Contempt Case: پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ میں کہا’ نہ مجھے رحم چاہئے، نہ رحمدلی، جو بھی سزا ملے تیار ہوں‘

پرشانت بھوشن نے اپنے وکیل دشینت دوے کے ذریعہ سپریم کورٹ سے مانگ کی کہ سزا سنانے کو لے کر ہونے والی سماعت کی نظر ثانی عرضی پر فیصلہ آنے تک ٹال دیا جائے۔ دوے نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ابھی اس کیس میں نظرثانی کی عرضی دائر کرنا باقی ہے۔

  • Share this:
Prashant Bhushan Contempt Case: پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ میں کہا’ نہ مجھے رحم چاہئے، نہ رحمدلی، جو بھی سزا ملے تیار ہوں‘
معروف وکیل پرشانت بھوشن کی فائل فوٹو

نئی دہلی۔ معروف وکیل پرشانت بھوشن (Prashant Bhushan) نے سپریم کورٹ سے کہا کہ انہیں توہین عدالت (Contempt of Court) کے معاملہ میں سزا ملنے کا ڈر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عدالت سے رحم نہیں چاہئے، جو بھی سزا ملے گی اس کے لئے وہ تیار ہیں۔ بھوشن نے اپنے وکیل دشینت دوے کے ذریعہ سپریم کورٹ سے مانگ کی کہ سزا سنانے کو لے کر ہونے والی سماعت کی نظر ثانی عرضی پر فیصلہ آنے تک ٹال دیا جائے۔ دوے نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ابھی اس کیس میں نظرثانی کی عرضی دائر کرنا باقی ہے۔



اس مانگ پر سپریم کورٹ نے بھوشن سے کہا’ ہم آپ کو یقین دلا سکتے ہیں کہ جب تک آپ کی نظرثانی عرضی پر فیصلہ نہیں ہوتا، سزا سے متعلق کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی‘۔ بھوشن نے عدالت سے کہا کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی میں سزا پر دلیلیں دیگر بینچ کو سننی چاہئیں۔ سپریم کورٹ نے سزا طئے کرنے پر دیگر بینچ کے ذریعہ سماعت کی بھوشن کی مانگ کو مسترد کر دیا۔

جسٹس ارون مشرا کی بینچ نے کہا کہ سزا سنا بھی دیں گے تو ریویو پر فیصلے تک نافذ نہیں ہو گی۔ دوسری طرف بھوشن کے وکیل نے کہا کہ اگر سزا کو ٹال دیں گے تو آسمان ٹوٹ نہیں پڑے گا۔ بھوشن نے کہا کہ میرے ٹویٹ ایک شہری کے طور پر میرے فرائض کی تکمیل کی کوشش تھے۔ اگر میں تاریخ کے اس موڑ پر نہیں بولتا تو میں اپنے فرائض میں ناکام ہوتا۔ مجھے کوئی بھی سزا قابل قبول ہے۔

بابائے قوم مہاتما گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے پرشانت بھوشن نے کہا۔ ’ میں رحم نہیں مانگ رہا۔ میں رحمدلی کی اپیل نہیں کرتا۔ عدالت جو بھی سزا دے گی وہ مجھے خوشی خوشی قبول ہے‘۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 20, 2020 01:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading