உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وشوہندو پریشد کے خلاف انٹرنیشنل ہندوپریشد، ٹیم بدلی ہے تیورمیں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی: پروین توگڑیا

    پروین توگڑیا: فائل فوٹو

    پروین توگڑیا: فائل فوٹو

    وی ایچ پی کے سابق لیڈر پروین توگڑیا نے اپنی نئی تنظیم کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ توگڑیا نے اپنی نئی تنظیم کا نام انٹرنیشنل ہندو پریشد رکھا ہے۔ نام کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی ٹیم بنی ہے، وہ اپنا کام کرے گی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سابق لیڈر پروین توگڑیا نے اپنی نئی تنظیم کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ توگڑیا نے اپنی نئی تنظیم کا نام انٹرنیشنل ہندو پریشد رکھا ہے۔ نام کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی ٹیم بنی ہے، وہ اپنا کام کرے گی۔ ٹیم بدلی ہے، لیکن تیور نہیں بدلے ہیں۔ نئی تنظیم کے بعد توگڑیا 26 جون کو اجودھیا بھی جائیں گے اوررام للا کا درشن (دیدار) کریں گے۔

      انٹرنیشنل ہندو پریشد کے اعلان کے بعد پروین توگڑیا نے کہا کہ "انٹرنیشنل ہندو پریشد " نامی تنظیم ملک وبیرون ملک کے سبھی ذات، تجارت، زبان، ریاست، گروپوں، جنس کے ہندووں کے سماجی، مذہبی، اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی حقوق کے لئے کام کرے گا۔

      انہوں نے بتایا کہ پہلے سے چل رہے ہندو ہیلپ لائن، انڈیا ہیلتھ لائن، ایک مٹھی اناج، ہندو ایڈوکیٹس فورم اور یوتھ سوشو اکنامک ڈولیپمنٹ فورم بھی اب مزید تیزی سے کام کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل ہندو پریشد کے پورے ملک میں 500 سے زیادہ اضلاع ہوں گے۔

      واضح رہے کہ وشو ہندو پریشد سے باہر ہونے کے بعد پروین توگڑیا نے وی ایچ پی چھوڑ کر نئی تنظیم بنانے کی بات کہی تھی۔ وی ایچ پی میں اپنے بے حد قریبی اورخاص راگھو ریڈی کے ہارنے کے بعد ناراض پروین توگڑیا منگل 17 اپریل سے احمد آباد میں غیرمعینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔

      اس دوران انہوں نے نریندر مودی حکومت پرحملہ بولا تھا۔ توگڑیا نے مودی حکومت کی کارکردگی کو مائنس 25 فیصد کی ریٹنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم کی بیرون ممالک پالیسی بے حد خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھا کہ توگڑیا نے کہا تھا کہ بڑے خواب بیچنا ہی کافی نہیں ہے۔ قوم کی تعمیرکام کے حقائق پرمبنی تھا، جو بھی حقیقت میں نظرآنا باقی ہے۔

      غورطلب ہے کہ پروین توگڑیا نے 14 اپریل کو تب وی ایچ پی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا، جب تنظیم کے بین الاقوامی صدرعہدہ کے لئے گڑگاوں میں ہوئے الیکشن میں انہیں شکست کا سامنا کرناپڑا تھا۔ اس الیکشن میں توگڑیا کے حمایت یافتہ امیدوارراگھوریڈی کو ہماچل پردیش کے سابق گورنروی ایس کوکجے نے شکست دی تھی۔
      First published: