ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

انعامات کا احترام کیا جانا چاہئے، عدم اتفاق کا اظہار بحث ومباحثہ کے ذریعہ ہونا چاہئے: پرنب

نئی دہلی۔ ملک میں متعدد ادیبوں، دانشوروں اور فن کاروں کے ذریعہ اپنے ایوارڈ واپس کردینے پر جاری بحث کے درمیان صدر پرنب مکھرجی نے آج کہا کہ باوقار ایوارڈ کسی فرد کی صلاحیت اور اس کی مہارت کے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کا احترام کیا جانا چاہئے اور جذبات میں آکر کوئی قدم اٹھانے کے بجائے عدم اتفاق کا اظہار بحث و مباحثہ کے ذریعہ کیا جانا چاہئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 16, 2015 06:53 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
انعامات کا احترام کیا جانا چاہئے، عدم اتفاق کا اظہار بحث ومباحثہ کے ذریعہ ہونا چاہئے: پرنب
نئی دہلی۔ ملک میں متعدد ادیبوں، دانشوروں اور فن کاروں کے ذریعہ اپنے ایوارڈ واپس کردینے پر جاری بحث کے درمیان صدر پرنب مکھرجی نے آج کہا کہ باوقار ایوارڈ کسی فرد کی صلاحیت اور اس کی مہارت کے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کا احترام کیا جانا چاہئے اور جذبات میں آکر کوئی قدم اٹھانے کے بجائے عدم اتفاق کا اظہار بحث و مباحثہ کے ذریعہ کیا جانا چاہئے۔

نئی دہلی۔  ملک میں متعدد ادیبوں، دانشوروں اور فن کاروں کے ذریعہ اپنے ایوارڈ واپس کردینے پر جاری بحث کے درمیان صدر پرنب مکھرجی نے آج کہا کہ باوقار ایوارڈ کسی فرد کی صلاحیت اور اس کی مہارت کے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کا احترام کیا جانا چاہئے اور جذبات میں آکر کوئی قدم اٹھانے کے بجائے عدم اتفاق کا اظہار بحث و مباحثہ کے ذریعہ کیا جانا چاہئے۔


مسٹر مکھرجی نے نیشنل پریس ڈے کے موقع پر نیشنل پریس کونسل کی طرف سے منعقدہ تقریب میں صحافت کے شعبے میں قابل ذکر کارکردگی کےلئے انعامات تقسیم کرنے کے بعد کہا کہ باوقار انعام فرد کی صلاحیت ، اہلیت اور سخت محنت کے احترام میں دیا جاتا ہے۔ انعام لینے والے کو اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ان انعامات کا احترام کرنا چاہئے۔


انہوں نے کہا کہ سماج میں بعض واقعات کی وجہ سے حساس افراد کبھی کبھی بے چین ہوجاتے ہیں لیکن جذبات کو دلائل پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہئے اور عدم اتفاق کو بحث اور تبادلہ خیال کے ذریعہ ظاہر کیا جانا چاہئے۔ قابل فخر ہندستان ہونے کے ناطے ہمیں ہندستان کے تصور اور آئین میں پنہاں قدروں اور اصولوں پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔


مسٹر مکھرجی نے کہا کہ میڈیا کو عوامی مفادات کے نگہبان کے طور پر کام کرتے ہوئے محروموں کی آواز بننی چاہئے۔ صحافیوں کو بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کرنے والے واقعات کو عام کرنا چاہئے۔ میڈیا کی طاقت کا استعمال اخلاقی قدروں کو مستحکم کرنے ، رحم دلی، انسانیت اور عوامی زندگی میں اخلاقیات کو فروغ دینے کے لئے کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ خیالات آزاد ہوتے ہیں لیکن حقائق درست ہونے چاہئیں۔بالخصوص ایسے معاملات میں جن میں قانون اپنا کام کررہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کیریر اور وقار بنانے میں برسوں لگ جاتے ہیں لیکن یہ چند منٹوں میں تباہ ہوسکتے ہیں۔


مسٹر مکھرجی نے کہا کہ ہندوستانی میڈیا صرف خبر ہی نہیں دیتا بلکہ یہ ٹیچر کا رول بھی ادا کرتا ہے اور شہریوں کوبااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کے جمہوری ڈھانچے کو بھی مضبو ط کرتا ہے۔ اس سال کے نیشنل پریس ڈے کے موضوع کارٹون اور مزاحیہ تصویر پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں کے تناو کو دور کرتے ہیں۔ کارٹونسٹ اپنے وقت کے موڈ کو بھانپ کر کسی کو چوٹ پہنچائے بغیر اپنے فن سے ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جسے کسی طویل مضمون میں بھی ظاہر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو مشہور کارٹونسٹ وی شنکر کے گھر چائے پینے جاتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ "شنکر مجھے بھی مت چھوڑنا" ۔

First published: Nov 16, 2015 04:58 PM IST