ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ نے اروناچل کے گورنر سے 15 منٹ میں مانگی رپورٹ

نئی دہلی۔ اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کئے جانے کو لے کر کانگریس کی درخواست پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Jan 27, 2016 03:45 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سپریم کورٹ نے اروناچل کے گورنر سے 15 منٹ میں مانگی رپورٹ
نئی دہلی۔ اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کئے جانے کو لے کر کانگریس کی درخواست پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔

نئی دہلی۔ اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کئے جانے کو لے کر کانگریس کی درخواست پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے گورنر سے رپورٹ طلب کر پوچھا کہ کس بنیاد پر اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کیا گیا۔ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کورٹ نے گورنر کی جانب سے موجود سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ 15 منٹ کے اندر اس کا جواب دیا جائے کہ ریاست میں صدر راج لگانے کا فیصلہ کن حالات میں کیا گیا۔ ساتھ ہی عدالت نے پوچھا کہ اس تازہ واقعہ کے بارے میں آگاہ کیوں نہیں کرایا گیا۔ سماعت کے بعد عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے جمعہ کو مرکز سے اس معاملے پر جواب مانگا۔ اب پیر کو اگلی سماعت ہوگی۔


خیال ر ہے کہ 69 رکنی اروناچل پردیش اسمبلی میں حکمراں کانگریس کے 47 ممبران اسمبلی میں سے 21 نے وزیر اعلی نبم تکی کو ہٹانے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 11 ممبران اسمبلی سے ہاتھ ملا لیا تھا اور ان کے ساتھ دو آزاد رکن اسمبلی بھی آ گئے تھے۔ ریاست میں آئینی بحران کے پیش نظر گزشتہ اتوار کو مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں صدر راج لگائے جانے کی تجویز کی منظوری ملی تھی اور اس کے بعد کابینہ نے یہ تجویز صدر کو بھیج دی تھی۔


وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر ہوئی کابینہ کی ہنگامی میٹنگ میں صدر سے اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میٹنگ میں ریاست میں جاری سیاسی بحران پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے سیاسی بحران اور آئینی حیثیت پر اٹارنی جنرل مکل روہتگی سے مشورہ کیا۔ حکومت نے آخر کار فیصلہ کیا کہ اروناچل پردیش میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے اور اس میں مرکزی حکومت کی مداخلت کی ضرورت ہے۔


مسٹر تکی نے الزام لگایا کہ گورنر جیوتی پرساد راجکھووا بی جے پی کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور انہوں نے وقت سے پہلے اسمبلی اجلاس بلا کران کی حکومت گرانے میں کانگریس کے باغی ممبران اسمبلی کی مدد کی۔ ریاستی حکومت نے اسمبلی کی عمارت کو سیل کر دیا تھا۔ گزشتہ برس 16 اور 17 دسمبر کو ایک ہوٹل میں بلائے گئے اسمبلی اجلاس میں بی جے پی اور آزاد ممبران اسمبلی کے ساتھ کانگریس کے باغی گروپ نے ریاستی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تجویزمنظور کی تھی۔ اسمبلی کے اسپیکر نبام ریبیا نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا لیکن گوہاٹی ہائی کورٹ نے عرضی مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد مسٹر ریبیا سپریم کورٹ پہنچے تھے جہاں آئینی بنچ کو یہ معاملہ سونپا گیا۔

First published: Jan 27, 2016 03:37 PM IST