ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نقلی فتووں اور ضمیر فروش مولویوں سے منتشر ہو رہا ہے ملت کا شیرازہ، اہم تنظیموں نے اٹھائی آواز

پریشر گروپ آف مائنارٹیز نے دار العلوم دیوبند،ندو ُۃ العلما ، تنظیم المکاتب اور سلطان المدارس کے ذمہ دار علماء سے گزارش کی ہے کہ شریعت اور فقہ کے اہم مسائل کی روشنی میں وہ ملت کی رہنمائی کریں۔

  • Share this:
نقلی فتووں اور ضمیر فروش مولویوں سے منتشر ہو رہا ہے ملت کا شیرازہ، اہم تنظیموں نے اٹھائی آواز
نقلی فتووں اور ضمیر فروش مولویوں سے منتشر ہو رہا ہے ملت کا شیرازہ، اہم تنظیموں نے اٹھائی آواز

لکھنئو۔ آئے دن سامنے آنے والے غیر ضروری فتووں نے نہ صرف معاشرے کا ماحول خراب کیا ہے بلکہ اسلام اور اسلامی شریعت کو بدنام کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ نقلی مفتیوں، جاہل مولویوں اور حرص و ہوس میں گرفتار باریش عماموں نے اس قوم و ملت کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی کئی صدیوں تک بھی ممکن نہیں۔ یہ ماننا ہے پریشر گروپ آف مائنارٹیز کے صدر سید بلال نورانی کا۔ بلال نورانی کہتے ہیں کہ کچھ سیاسی لوگوں اور تنظیموں کے اشارے پر ہر مسئلے اور ہر موضوع پرچند روپیوں میں فتووں کے جاری کئے جانے اور پھر ان کے ناجائز استعمال کے ذریعہ قوم و ملت کے شیرازے کا بکھرنا یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اب لوگ دین پر دنیا کو فوقیت دینے لگے ہیں، ہر کس و ناکس چند ٹکوں میں بنامِ فتویٰ کچھ بھی لکھ کر دے دیتا ہے اور پھر باقی کام کم علم صحافی اور ذرائع ابلاغ سے جڑے مجبور و محکوم قلمکار خود کر دیتے ہیں۔


لکھنئو میں منعقدہ پریشر گروپ آف مائنارٹیز کی میٹنگ میں تبادلہء خیال کے بعد یہ واضح کیا گیا کہ اس بابت اہم مراکز و مدارس میں قائم شدہ دار الافتاء  سے رابطہ کرکے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا جو ہر مسئلے پر بغیر سوچے سمجھے فتوے جاری کر دیتے ہیں۔ عید الاضحیٰ کے تناظر میں بھی کچھ لوگوں نے اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اپنے ضمیر اور ایمان کو ایک بار پھر فروخت کرنے کی کوشش کی ہے ، نقلی فتووں کی بنیاد پر یہ بیانات جاری کئے جارہے ہیں کہ قربانی نہ کرکے پیسہ کورونا سے جنگ لڑنے کی مد میں دے دیا جائے۔ پریشر گروپ آف مائنارٹیز نے ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کرسیوں کی لالچ اور عیش و عشرت نے ان لوگوں کی عقل چھین لی ہے۔


معروف عالم دین مولانا علی حسین کہتے ہیں کہ کورونا کے پیشِ نظر احتیاطی تدبیروں کے ساتھ قربانی، قربانی کی طرح کی جائے گی۔ وسیم رضوی اور محسن رضا یا ایسے ہی لوگوں کے اشارے پر مومنین کو مذہب سے دور کرنے والے بیان بازوں کا مقصد خدا اور اہل بیت کی خوشنودی نہیں بلکہ اپنے سیاسی خداؤں کو خوش کرنا ہے۔ مولانا شباہت حسین کے مطابق اس انداز کے بیان لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے دیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی شباہت یہ بھی کہتے ہیں کہ جتنا پیسہ ہندو مسلم بھائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں نے وبا سے لڑنے کے لئے دیا ہے اگر وہی ایمانداری اور دیانت داری سے خرچ کردیا جائے تو کورونا سے ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہوگا۔ اسپتالوں کی حالت درست ہوجائے گی اور غریب بھوک سے نہیں مریں گے۔


واضح رہے کہ صوفی کونسل سے جڑے کچھ لوگوں نے بھی اسی خیال کی ترجمانی کی تھی کہ قربانی کا پیسہ کورونا کیئر فنڈ میں دے دیا جائے جس کی کئی اہم سماجی اور ملی تنظیموں کی جانب سے سخت مخالفت و مذمت کی گئی ہے۔ پریشر گروپ آف مائنارٹیز نے دار العلوم دیوبند،ندو ُۃ العلما ، تنظیم المکاتب اور سلطان المدارس کے ذمہ دار علماء سے گزارش کی ہے  کہ شریعت اور فقہ کے اہم مسائل کی روشنی میں وہ ملت کی رہنمائی کریں جس سے مفاد پسند لوگوں ، موقع پرست سیاست دانوں اور ضمیر فروش مولویوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 27, 2020 01:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading