ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نفرت انگیز تقریر، خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش بند ہونی چاہیے:صدر جمہوریہ

نئی دہلی: اترپردیش کے دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک 50 سالہ شخص کو ہلاک کئے جانے کے واقعہ پر ملک میں بڑھتے ہوئے غم و غصے کے درمیان صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ نفرت انگیز تقریر اور خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش بند ہونی چاہیے

  • UNI
  • Last Updated: Oct 08, 2015 09:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نفرت انگیز تقریر، خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش بند ہونی چاہیے:صدر جمہوریہ
نئی دہلی: اترپردیش کے دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک 50 سالہ شخص کو ہلاک کئے جانے کے واقعہ پر ملک میں بڑھتے ہوئے غم و غصے کے درمیان صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ نفرت انگیز تقریر اور خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش بند ہونی چاہیے

نئی دہلی: اترپردیش کے دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک 50 سالہ شخص کو ہلاک کئے جانے کے واقعہ پر ملک میں بڑھتے ہوئے غم و غصے کے درمیان صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ نفرت انگیز تقریر اور خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش بند ہونی چاہیے اور کسی کو بھی اقتدار کی بھوک مٹانے کے لئے مذہب کو ایک مکھوٹے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔


مسٹر مکھرجی نے دس سے پندرہ اکتوبر تک اردن ، فلسطین اور اسرائیل کے اپنے دورے سے قبل اردن کے عربی روز نامہ الغدکے تحریری سوالات کے جواب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔


ایک سوال کے جواب میں کہ وہ انتہاپسندی اور دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اردن کے رول کو کس طرح سے دیکھتے ہیں ، صدر جمہوریہ نے کہا کہ ’’اس سال 29 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شاہ عبداللہ کی تقریر کو میں نے غور سے سنا ہے جس میں انہوں نے انتہاپسندی کے اس دور میں روا داری اور بقائے باہمی کے فروغ کے لئے سات اقدامات کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔


صدر جمہوریہ نے کہا کہ رواداری اور بقائے باہمی ہماری تہذیب کے بنیادی اصول ہیں۔ ہم ان کو اپنے دل کے بہت قریب رکھتے ہیں۔ ہمارے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو پرامن بقائے باہم کے پانچ اصولوں کی ملکوں کے درمیان ترویج کرتے تھے۔ میں شاہ عبداللہ سے اتفاق کرتا ہوں کہ دنیا کو تیسری عالمگیر جنگ کا سامنا ہے جس کا جواب ہمیں بھی اتنی ہی طاقت سے دینا ہے۔


میں اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں اپنے عقائد کے جوہر کی طرف لوٹنا چاہئے۔ نفرت انگیز تقریر اور خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش بند ہونی چاہیے۔ ہماری اقدار کو ہماری روز مرہ کی زندگی کا حصہ بننا چاہئے۔ ہمیں اعتدال پسندی کو فروغ دینا چاہیے۔ ہمیں یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ کچھ مخصوص افراد اقتداراور کنٹرول کی اپنی بھوک مٹانے کے لئے مذہب کو ایک مکھوٹے کے طور پر استعمال کریں۔میں اس با ت سے پوری طرح متفق ہوں کہ ہر ملک، ہر عقیدے اور ہرپڑوسی لیڈر کو کسی بھی طرح کی عدم رواداری کے خلاف ایک واضح اور عوامی سطح پر موقف اختیار کرنا چاہئے جیسا کہ شاہ عبداللہ نے اپیل کیا۔


مسٹر مکھرجی نے اردن کے ساتھ ہندوستان کے رشتوں کو قریبی اور تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہم عالمی امورپر ہمارے نظریات یکساں ہیں ۔ ہم شام ، عراق اور مشرق وسطی سمیت علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں یکساں موقف اور ادراک رکھتے ہیں ۔


ہم مذہبی بنیاد پرستی اور انتہاپسندی نیز ہر طرح کے دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارے دونوں ملکوں کی سیکورٹی سے متعلق تشویشات میں یکسانیت کو دیکھتے ہوئے ہندوستان سیکورٹی کے شعبے میں مزید تعاون کا منتظر ہے۔


مسٹر مکھرجی نے کہا کہ ان کے دورے سے ہندوستان اور اردن کے درمیان دوبارہ اعلی سطح کے رابطے قائم ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور اقتصادی رشتوں کو مستحکم کرنے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔


مسٹر مکھرجی نے مزید کہا کہ علاقائی اتھل پتھل اور بے چینی کے پس منظر میں اردن کے میرے دورے سے یہ پیغام جائے گا کہ ہندوستان اور اردن عالمی دہشت گردی اور ہر طرح کے عدم استحکام کے خلاف لڑائی میں ایک ساتھ ہیں ۔ ہم متعدد مفاہمتی قراردادوں اور معاہدوں پر دستخط کریں گے جس سے دونوں ملکوں کے مابین تعاون کے ادارہ جاتی فریم ورک کو تقویت ملے گی۔

First published: Oct 08, 2015 09:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading