உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندستان کا تکثیری کردار ہر قیمت پر برقرار رکھنا ضروری: صدر

    نئی دہلی: صدر پرنب مکھرجی نے آج ایک بار پھر زور دیکر کہا کہ ہندستان کی رنگا رنگی اور اس کا تکثیری کردار جو اس کی اجتماعی طاقت ہے ، ہر قیمت پر محفوظ رکھا جانا چاہئے۔

    نئی دہلی: صدر پرنب مکھرجی نے آج ایک بار پھر زور دیکر کہا کہ ہندستان کی رنگا رنگی اور اس کا تکثیری کردار جو اس کی اجتماعی طاقت ہے ، ہر قیمت پر محفوظ رکھا جانا چاہئے۔

    نئی دہلی: صدر پرنب مکھرجی نے آج ایک بار پھر زور دیکر کہا کہ ہندستان کی رنگا رنگی اور اس کا تکثیری کردار جو اس کی اجتماعی طاقت ہے ، ہر قیمت پر محفوظ رکھا جانا چاہئے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی: صدر پرنب مکھرجی نے آج ایک بار پھر زور دیکر کہا کہ ہندستان کی رنگا رنگی اور اس کا تکثیری کردار جو اس کی اجتماعی طاقت ہے ، ہر قیمت پر محفوظ رکھا جانا چاہئے۔ دہلی ہائی کورٹ کی گولڈن جوبلی تقریبات کا افتتاح کرنے کے بعد ممتاز شخصیات کے ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔


       انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کو اپنی امتزاجی قوت اور رواداری کی بدولت ہی عروج حاصل ہوا ہے۔ ہمارا تکثیری کردار وقت کی کسوٹی پر کھرا اترا ہے۔ ہماری قدیم تہذیب نے صدیوں میں ہماری رنگارنگی کواپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے۔ کثیر جہتی ہماری اجتماعی طاقت ہے جس کی ہرقیمت پر حفاظت کی جانی چاہئے۔ْ صدر نے حالیہ دنوں میں ہندستانی جمہوریت کے تکثیری کردار پر زور دیتے ہوئ تیسری بار اپنا پیغام دیا ہے۔


      قومی عدالتی تقرری کمیشن (این جے اے سی) کی تشکیل سے متعلق 99 ویں آئینی ترمیمی قانون کی تنسیخ پر مقننہ اور عدلیہ کے درمیان چھڑنے والی بحث کے درمیان صدر نےکہا کہ آئین اور قوانین کی تشریح کا مکمل اختیار صرف عدلیہ کو ہی حاصل ہے۔


      مسٹر مکھرجی نے کہاکہ عدلیہ جمہوریت کےتین اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور آئین او ر قانون کی حتمی تشریح کرنے کی ذمہ داری اسی پر ہے۔ قانون کی حکمرانی کے نگراں اور آزادی کے بنیادی حق کے پاسبان کی حیثیت سے عدلیہ کا رول سب سےاہم ہے اور عدلیہ پر لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ ہمیشہ بنارہنا چاہئے۔


      صدر نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کی گولڈن جوبلی تقریبات کا موضوع ہے، ’سبھی کو انصاف اس موضوع سے ان کے ذہن میں یہ بات ابھرتی ہے کہ قانون اور عدلیہ کی نظر میں امیر و غریب ایک جیسے ہیں۔


      انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں آئین اور قانون کی حتمی شارح ہے۔ عدلیہ کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ بسرعت اور سخت اور موثر ڈھنگ سے نمٹ کر سماجی نظام کو برقرا ر رکھنےمیں مدد کرنی چاہئے۔

      First published: