உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خصوصی انٹرویو : مہذب سماج میں دلتوں پر مظالم کیلئے کوئی جگہ نہیں : وزیر اعظم

    وزیر اعظم نے ملک میں دلت پر تشدد سے معلق سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک کچھ واقعات کا سوال ہے، یہ قابل مذمت ہے، کسی بھی مہذب معاشرے کو ایسے واقعات زیب نہیں دیتے ، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لاء اینڈ آرڈر ریاست کا موضوع ہوتا ہے۔

    وزیر اعظم نے ملک میں دلت پر تشدد سے معلق سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک کچھ واقعات کا سوال ہے، یہ قابل مذمت ہے، کسی بھی مہذب معاشرے کو ایسے واقعات زیب نہیں دیتے ، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لاء اینڈ آرڈر ریاست کا موضوع ہوتا ہے۔

    وزیر اعظم نے ملک میں دلت پر تشدد سے معلق سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک کچھ واقعات کا سوال ہے، یہ قابل مذمت ہے، کسی بھی مہذب معاشرے کو ایسے واقعات زیب نہیں دیتے ، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لاء اینڈ آرڈر ریاست کا موضوع ہوتا ہے۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : یوپی انتخابات ہوں یا دلتوں پر مظالم کا مسئلہ، معیشت کا سوال ہو یا کشمیر میں تشدد کا معاملہ ، وزیر اعظم نریندر مودی کا سب سے بے باک اور سب سے بڑا انٹرویو آپ آج رات 9 بجے نیٹ ورک 18 کے سبھی نیوز چینلوں اور ڈیجیٹل برانڈس پر دیکھیں ۔ ان سبھی امور پر مودی نے بڑی بے باکی سے اپنی رائے رکھی ہے۔ نیٹ ورک 18 کے گروپ ایڈیٹر راہل جوشی کے ساتھ خاص بات چیت میں وزیر اعظم مودی نے اپنی زندگی کے کچھ ان کہے پہلوؤں کو بھی شیئر کیا۔
      وزیر اعظم نے ملک میں دلت پر تشدد سے معلق سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک کچھ واقعات کا سوال ہے، یہ قابل مذمت ہے، کسی بھی مہذب معاشرے کو ایسے واقعات زیب نہیں دیتے ، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لاء اینڈ آرڈر ریاست کا موضوع ہوتا ہے۔ لوگ کچھ چنندہ چیزوں کو اچھال کر مودی کے گلے مڑھنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کا کیا مفاد ہے ، میں نہیں جانتا ، لیکن اس سے ملک کو نقصان ضرور ہوگا۔ وزیر اعظم نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواہ فرقہ وارانہ تشدد ہوں، یا دلت بھائی بہنوں پر مظالم یا پھر قبائلیوں پر ظلم وستم ، گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس حکومت کے دور میں ایسے واقعات بہت کم ہوئے ہیں۔
      ایسے میں جو لوگ خود کو کچھ خاص طبقوں کا ٹھیکیدار بتا کر ملک میں رہنا چاہتے ہیں، انہیں یہ منظور نہیں کہ مودی دلتوں اور قبائلیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہے ہیں۔ میں تمام لیڈروں اور اپنی پارٹی کے بھی لیڈروں سے کہوں گا کہ کسی بھی شخص کے لئےاناپ شناپ بیان بازی نہ کریں ۔ میڈیا اہلکار تو آئیں گے ، انہیں ٹی آر پی چاہئے ، لیکن آپ کو ملک کو جواب دینا ہے۔ ہزاروں سالوں کی برائیوں کی وجہ سے ہمارے زخم بهت گہرے ہیں، اس پر اگر چھوٹا سا بھی واقعہ ہم سے ہوجائے گا ، تو اس کی تکلیف مزید بڑھ جائے گی۔ واقعہ چھوٹا ہے یا بڑا ، سوال یہ نہیں ہے، واقعہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔
      جہاں تک انتخابات کا سوال ہے، انتخابات تو آتے رہتے ہیں۔ 5 ریاستوں میں انتخابات آنے والے ہیں، اس میں سے ایک یوپی بھی ہے۔ بی جے پی ترقی کے نام پر ہی الیکشن لڑے گی۔ نسل پرست اور فرقہ پرستی نے ملک کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ معاشرے کے ہر طبقہ نے مل کر 30 سالوں کے بعد ملک میں واضح اکثریت والی سرکاری بنائی ہے۔
      First published: