ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بھگوا زیب تن کرنے والے وزیر اعلی کی طرف سے ’بدلہ لینے‘ جیسے جملے کا استعمال قابل مذمت: پرینکا گاندھی

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر طنز کستے ہوئے پرینکا نے کہا کہ بھگوا زیب تن کرنے والے وزیر اعلی کی طرف سے اپنی ہی عوام کے خلاف بدلہ لینے جیسے جملے کا استعمال قابل مذمت ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 30, 2019 06:14 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بھگوا زیب تن کرنے والے وزیر اعلی کی طرف سے ’بدلہ لینے‘ جیسے جملے کا استعمال قابل مذمت: پرینکا گاندھی
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی

لکھنؤ۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف ریاست میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین پر پولیس کی جانب سے سفاکانہ کاروائی کے لئے یوگی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی پوری کاروائی غیر قانونی ہے اسی کسی بھی طرح سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ پرینکا نے پیر کی صبح پارٹی کے ریاستی صدر اجے کمار للو کی قیادت میں آنندی بین پٹیل کو بھیجے گئے میمورنڈم میں پولیس کی کاروائی کی اعلی سطحی عدالتی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ریاست میں پولیس کی سفاکانہ کاروائی کے لئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ذمہ دار ہیں۔

پیر کو میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ’’ جب ایک ریاست کا وزیر اعلی پرامن مظاہرین کے خلاف ’’بدلہ لینے‘ جیسے لفظوں کا استعمال کرتا ہے تو پھر ایسے ریاستی انتظامیہ سے اور کیا امید کی جاسکتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ لوگ تمام اقدار کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نہ صرف پراپرٹی کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ عوام کو ہراساں بھی کریں گے کیونکہ انہیں ریاست کے سربراہ کی ہدایت پر عمل کرنا ہے۔ ریاست میں خستہ حال نظم ونسق اور پولیس کی بربریت کے خلاف تفصیل سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ سی اے اے مظاہرے میں گرفتار اکثر افراد کو بے بنیاد الزامات میں پھنسایا گیا ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ کانگریس ایسے تمام افراد کی قانونی مدد مفت میں فراہم کرے گی۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر طنز کستے ہوئے پرینکا نے کہا کہ بھگوا زیب تن کرنے والے وزیر اعلی کی طرف سے اپنی ہی عوام کے خلاف بدلہ لینے جیسے جملے کا استعمال قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس رنگ کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔ بھگوا ان کا ذاتی رنگ نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی روایت کا مظہر ہے۔ ہماری روایت میں بدلہ یا تشدد کو کوئی مقام نہیں ہے لیکن وزیر اعلی بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں ۔ یہ وزیر اعلی کی زبان نہیں ہے۔

پرینکا نے کہا کہ تشدد اور توڑ پھوڑ کرنےو الے کون لوگ ہیں اور اس کے پیچھے کون ہے؟ اس کی جانچ کسی ریٹائرڈ جج سے کرائی جائے۔ عام لوگوں کو نوٹس بھیج کر ان سے وصول کرنا ان کا استحصال ہے۔ جب تک لاقانونیت اور توڑ پھوڑکرنے والوں کی پہچان نہ ہوجائے تب تک لوگوں کو پریشان نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بغیر کسی مناسب کاروائی کے بے گناہوں کو نوٹس بھیجی جا رہی ہے جن میں سماجی کارکن و ریٹائرڈ آی پی ایس افسر ایس دار پوری جیسے سینئر شہری بھی شامل ہیں۔ این آر سی پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کی عوام کو پریشان کرنے کے لئے کیا گیا ہے ۔ جس طرح نوٹ بندی کے دوران لوگوں کو پریشان کیا گیا اسی طرح سے پھر سے عام شہری پریشان ہوں گے۔ گاؤں میں جن غریبوں کے پاس دستاویزات نہیں ہیں وہ کہاں سے ثبوت دیں گے؟ شہروں میں مزدوری کرنے والے لوگ کہاں سے 1970 کا ٹیلی فون بل لے کر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سبھی وزراءاعلی نے اس کی مخالفت کی ہے۔

First published: Dec 30, 2019 06:08 PM IST