உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کا ہندوتو کی طرف جھکاو ہی بابری مسجد کے انہدام کا سبب تھا: منی شنکر ائیر

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ایئر نے اپنی ہی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعظم رہے پی وی نرسمہا راؤ پر بابری مسجد انہدام کا الزام لگایا ہے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ایئر نے اپنی ہی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعظم رہے پی وی نرسمہا راؤ پر بابری مسجد انہدام کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راؤ کا ہندوتو کی طرف جھکاو تھا جس کا نتیجہ تھا کہ ایودھیا میں بابری مسجد گرا دی گئی۔

      آپ كو بتا دیں کہ مصنف ونے سيتاپتھی کی نرسمها راؤ پر لکھی کتاب ہاف لائن کی رسم اجرا کے موقع پر کئی کانگریسی لیڈروں کو بلایا گیا تھا جس میں بہت سے نرسمہا راؤ کے کافی قریبی رہ چکے لیڈر بھی شامل تھے۔

      پروگرام میں موجود سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کہا کہ 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں ہوا بابری مسجد انہدام کا واقعہ اس وقت کے وزیر اعظم راؤ کی سب سے بڑی ناکامی تھی۔ وہیں ایئر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اس وقت اپنے افسروں اور مشیروں پر یقین کرنے کے بجائے سادھوؤں اور سنتوں پر یقین کیا۔ انہیں یقین تھا کہ ان سے بات چیت کر وہ ایودھیا معاملے کو سلجھا لیں گے۔

      ایئر نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے انہوں نے اس وقت رام رحیم یاترا شروع کی تھی۔ لیکن 14 نومبر 1992 کو اتر پردیش حکومت نے انہیں فیض آباد میں ہی روک لیا اور گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد ایئر نے چونکانے والی بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ ان کو راؤ نے بلایا اور کہا مجھے آپ کی یاترا سے کوئی دقت نہیں ہے۔ لیکن ہندو اکثریتی ملک میں سیکولر ازم کی تعریف ٹھیک نہیں ہے۔
      First published: