ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

چھالیس ہزار کروڑ روپے کے دفاعی سودوں کو منظوری، بحریہ کو سوا سو سے زائد ہیلی کاپٹر ملیں گے

بحریہ کے لئے 111 ہیلی کاپٹروں کی خرید کا سودا اس معنی سے نہایت اہم ہے کہ یہ حکومت کے میک ان انڈیا منصوبہ کو دفاعی شعبہ میں فروغ دینے کے لئے وزارت دفاع کے سرخیوں میں رہنے والے اسٹریٹجک پارٹنرشپ ماڈل کے تحت پہلا پروجیکٹ ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 25, 2018 08:06 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
چھالیس ہزار کروڑ روپے کے دفاعی سودوں کو منظوری، بحریہ کو سوا سو سے زائد ہیلی کاپٹر ملیں گے
علامتی تصویر

نئی دہلی۔  حکومت نے پرانے ہوچکے چیتک ہیلی کاپٹروں کے دستہ کو بدلنے کی سمت میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے بحریہ کے لئے 21ہزارو کروڑ وپے کے 111ہیلی کاپٹروں سمیت مجموعی طورپر 46ہزار کروڑ روپے کے دفاعی سودوں کو آج منظوری دے دی۔ وزیر دفاع نرملا سیتارمن کی صدارت میں ہوئی دفاعی خرید کونسل کی میٹنگ میں بحریہ کے لئے 24کثیرالمقاصد ہیلی کاپٹر ایم ایچ 60’رومیو‘، فوج کے لئے 3364کروڑ روپے کی لاگت سے 150توپ اور بحریہ کے لئے چھوٹی دوری کے 14میزائل نظام کی خرید کو بھی منظوری دے دی۔ بحریہ کے لئے 111 ہیلی کاپٹروں کی خرید کا سودا اس معنی سے نہایت اہم ہے کہ یہ حکومت کے میک ان انڈیا منصوبہ کو دفاعی شعبہ میں فروغ دینے کے لئے وزارت دفاع کے سرخیوں میں رہنے والے اسٹریٹجک پارٹنرشپ ماڈل کے تحت پہلا پروجیکٹ ہے۔


اسٹریٹجک شراکت ماڈل کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے تحت ہندستانی اسٹریٹجک شراکت میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر، آبدوز اور بکتر بند گاڑیاں جیسے بڑے دفاعی پلیٹ فارم ملک میں ہی بنائے جائیں گے۔ یہ شراکت دار اس کے لئے ملک میں ہی پلانٹ قائم کریں گے اور اس سے متعلقہ جدید تکنالوجی اپنے غیرملکی شراکت دار سے حاصل کریں گے۔ اس ماڈل کا طویل مدتی مقصد ہندستان کو دفاعی پیداوار کے شعبہ میں خود انحصار بنانے کے ساتھ ساتھ ہندستان کو دفاعی آلات کے پیداوار کے ہب کے طورپر فروع دینا ہے۔


اس ماڈل کے تحت پروجیکٹوں کو حتمی شکل دیئے جانے کے بعد ملک میں دفاعی صنعتوں کے موافق ماحول بنے گا اور پرائیویٹ شعبہ اور مائکرو، چھوٹی اور درمیانہ صنعت اس کی اہم شراکت دار ہوں گی۔ حکومت نے بحریہ کی طاقت بڑھانے کے مقصد سے اسے 24کثیرالمقاصد ہیلی کاپٹروں سے لیس کرنے کوبھی منظوری دی ہے۔

ذرائع کے مطابق فرانس حکومت سے رافیل جنگی طیاروں کی راست خریداری کی طرح ہی یہ ہیلی کاپٹر سیدھے امریکی حکومت سے خریدے جائیں گے۔ بحریہ کو طویل عرصہ سے اس طرح کے ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔


ان ہیلی کاپٹروں سے لیس ہونے کے بعد بحریہ کی طاقت کافی بڑھ جائے گی کیونکہ یہ ہیلی کاپٹر آبدوزمخالف مہمات کے ساتھ ساتھ فائر اسپورٹ اور سمندر میں پہلے سے وارننگ سے متعلق کام بھی کریں گے۔ ان ہیلی کاپٹروں کو جنگی جہازوں پر بھی تعینات کیاجا سکتا ہے۔

فوج کی جدیدکاری کے سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے حکومت نے اس کے لئے ملک میں ہی تیار کردہ 150نہایت جدید توپ نظام کی خریداری کو بھی منظوری دی ہے۔ اس توپ نظام کا ڈیزائن اور تیاری ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے کی ہے۔ اس پروجیکٹ کی لاگت 3364کروڑ ہونے کا اندازہ ہے۔ یہ توپ مستقبل میں فوج کے توپ خانہ کی اہم بنیاد بنے گی۔ اس طرح کے پروجیکٹ سے حکومت کے میک ان انڈیا منصوبہ کو فروغ ملے گا اور ملک دفاعی پیداواری کے شعبہ میں خود انحصار بنے گا۔


دفاعی خریداری کونسل کی میٹنگ میں بحریہ کے لئے 14 چھوٹی دوری کے میزائل نظام کی خریدار ی کو بھی منظوری دی گئی۔ ان میں سے دس میزائل نظام ملک میں ہی تیار کئے جائیں گے۔ ان سے بحریہ کی طاقت بڑھے گی۔ اس نظام کو جنگی جہازوں پر تعینات کئے جانے کے بعد جنگی جہاز مخالف میزائلوں سے بچنے کی ان کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔

First published: Aug 25, 2018 08:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading