உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھارت ماتا لفظیات کی حد تک ’’ مادر وطن‘‘ ہے، اس پر تنازع غیر ضروری: اخترالواسع

    نئی دہلی ۔  بھارت ماتا کی جے کے نعرے پر جاری بحث کے درمیان ماہر اسلامیات پروفیسر اختر الواسع نے بہر حال کہا ہے کہ اسلام میں وطن سے محبت جزو ایمان ہے اور جہاں تک مادر وطن سے محبت کے اظہار کا  تعلق ہے تو محبت کرنے والے کو اس کی لفظیات طے کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔

    نئی دہلی ۔ بھارت ماتا کی جے کے نعرے پر جاری بحث کے درمیان ماہر اسلامیات پروفیسر اختر الواسع نے بہر حال کہا ہے کہ اسلام میں وطن سے محبت جزو ایمان ہے اور جہاں تک مادر وطن سے محبت کے اظہار کا تعلق ہے تو محبت کرنے والے کو اس کی لفظیات طے کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔

    نئی دہلی ۔ بھارت ماتا کی جے کے نعرے پر جاری بحث کے درمیان ماہر اسلامیات پروفیسر اختر الواسع نے بہر حال کہا ہے کہ اسلام میں وطن سے محبت جزو ایمان ہے اور جہاں تک مادر وطن سے محبت کے اظہار کا تعلق ہے تو محبت کرنے والے کو اس کی لفظیات طے کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی ۔  بھارت ماتا کی جے کے نعرے پر جاری بحث کے درمیان ماہر اسلامیات پروفیسر اختر الواسع نے بہر حال کہا ہے کہ اسلام میں وطن سے محبت جزو ایمان ہے اور جہاں تک مادر وطن سے محبت کے اظہار کا  تعلق ہے تو محبت کرنے والے کو اس کی لفظیات طے کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ پروفیسر اخترالواسع نے  ’’بھارت ماتا کے جے ‘‘ کہنے پر اصرار اور انکار کے تنازعے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان میں رہنے والوں کو ہندستان اور ہندو مذہب میں فرق کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔


      انہوں نے کہا کہ بھارت ماتا لفظیات کی حد تک ’’ مادر وطن‘‘ ہے اور امیر خسرو، علامہ اقبال اور حالی نے ہندستان کی عظمت کے ترانے لکھے ہیں جن میں وطن کی ایک مٹھی مٹی کو بھی جنت پر ترجیح دی گئی ہے۔ وطن سے محبت کو سنت رسول بتاتے ہوئے انہوں نے اس عقیدے کا بھی حوالہ دیا کہ مسلمانوں کے لئے تو ہندستان پدری وطن بھی ہےکیونکہ بہشت سے نکالے جانے پر حضرت آدم علیہ السلام جب زمین پر اترے تو ان کے قدم ہندستان کی مٹی پر ہی پڑے تھے ۔

      First published: