உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اے ایم یو کے اقلیتی کردار کی حمایت مہنگی پڑی اخترالواسع کو، استعفیٰ کے لیے بنایا گیا تھا دباو: ذرائع‎

    پروفیسر اختر الواسع: فائل فوٹو

    پروفیسر اختر الواسع: فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ پروفیسراخترالواسع نےکمشنربرائےاقلیتی لسانیات کے عہدہ سےاستعفی دے دیا ہےاوراستعفی کوصدرجمہوریہ ہند کی منظوری بھی مل گئی ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ پروفیسراخترالواسع نے حال ہی میں کمشنربرائےاقلیتی لسانیات کے عہدہ  سےاستعفی دے دیا ہےاوراستعفی کوصدرجمہوریہ ہند کی منظوری بھی مل گئی ہے۔ پروفیسرواسع نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کو بطور پروفیسرایک بارپھرجوائن کرلیا ہے لیکن تقریباچارماہ بعد پروفیسر واسع جامعہ سے بھی ریٹائر ہوجائیں گے۔


      ای ٹی وی، اردو سے خصوصی بات چیت میں اخترالواسع نے حالانکہ استعفیٰ کے لئے اپنے اوپر کسی دباو کی بات سے انکار کیا ہے، تاہم ذرائع کا یہی کہنا ہے کہ اے ایم یو کے اقلیتی کردار کے حق میں بولنا ان کے لئے مہنگا ثابت ہوا ہے ۔ ذرائع کے مطابق، اس کے بعد سے ہی اخترالواسع کو مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان پر استعفیٰ دینے کے لئے مسلسل دباو بنایا جانے لگا۔  ای ٹی وی سے بات چیت میں اختر الواسع نے کہا کہ انہوں نے اس لئے استعفیٰ دیا کہ شاید ان کے لئے کچھ اور نیا کرنے کو بچا نہیں تھا۔


       پروفیسر واسع نے کہا کہ انہوں نےدوسال میں تین رپورٹیں پیش کی ہیں جن میں اپنی نوعیت کی خاص سفارشات ہیں اورانہیں اپنےفرائض منصبی کی ادائیگی میں کسی طرح کی کوئی دشواری پیش نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  آج تک لسانیات کو لیکر سہ لسانی فارمولہ پر عمل نہیں ہو پایا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی بچے کی پرائمری ایجوکیشن اس کی مادری زبان میں ہونی چاہیے۔

      First published: