உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تعلیم کے ذریعہ ہی پسماندہ طبقات ملک میں اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں : شکیل صمدانی

    جونپور : تعلیم زندگی ہے اور جہالت موت ہے ،تعلیم یافتہ شخص کو نہ تو آسانی سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے حقوق سلب کئے جا سکتے ہیں

    جونپور : تعلیم زندگی ہے اور جہالت موت ہے ،تعلیم یافتہ شخص کو نہ تو آسانی سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے حقوق سلب کئے جا سکتے ہیں

    جونپور : تعلیم زندگی ہے اور جہالت موت ہے ،تعلیم یافتہ شخص کو نہ تو آسانی سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے حقوق سلب کئے جا سکتے ہیں

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      جونپور : تعلیم زندگی ہے اور جہالت موت ہے ،تعلیم یافتہ شخص کو نہ تو آسانی سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے حقوق سلب کئے جا سکتے ہیں، تعلیم کے ذریعہ ہی ملک کے انتہائی پسماندہ اور کمزور طبقات نے ملک میںاپنا مقام بنایا ہے اور اپنی قوم کا نام روشن کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر شکیل صمدانی نے شاہانہ انٹرنیشل اسکول میں کیا ۔
      انہوں نے کہا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ سے یہ بات ثابت ہو گیا ہے کہ مسلمان تعلیمی اور معاشی اعتبار سے انتہائی پسماندہ ہو چکے ہیں اور ان کی پسماندگی دور کرنے کا واحد ذریعہ تعلیم ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کو ادارہ سازی کی طرف دھیان دینا چاہیے اور معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل، انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ قانون کا پیشہ بھی بین الاقوامی اور قومی سطح پر ایک باعزت ، پروقار اور دنیاوی لحاظ سے بہت پیسے والا پروفیشن بن چکا ہے، مگر اس پروفیشن میں مسلمانوں کی تعداد تشویش ناک حد تک کم ہے۔
      پروفیسر صمدانی نے مزید کہا کہ تعلیم کے ساتھ صحیح تربیت اوررہنمائی کی ضرورت ہے ۔مذہب اسلام نے تربیت پر بہت زیادہ زور دیا ہے اور مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان نے جہاں بھی تعلیم کا لفظ استعمال کیا ہے ، وہاں انہوں نے تربیت کا لفظ بھی استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کیا کہ لوگ پوری زندگی میں بڑی مشکل سے ایک مکان بنوا پاتے ہیں ، لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ، جو اپنی زندگی میں بہت سارے ادارے بنا دیتے ہیں، ہمیں ایسے ادارہ ساز افراد کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ، بلکہ ان کی مدد بھی کرنی چاہیے ۔
      پروفیسر صمدانی نے اسکول انتظامیہ اور بالخصوص منیجر الحاج صابر قریشی سے درخواست کی کہ وہ اسکول میں وقتاً فوقتاً فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، انسان دوستی اور تاریخی شخصیات پر بھی پروگرام کرواتے رہیں ، تاکہ طلبہ میں صحیح تاریخ منتقل کی جا سکے اور قوم کے ہیروز کو ہیرو کی ہی شکل میں پیش کیا جا سکے ۔
      First published: