உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معروف دانشوراورنقاد پروفیسر اسلوب احمد انصاری انتقال کر گئے

    علی گڑھ ۔ معروف دانشور، نقاد اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کے سبکدوش پروفیسر اسلوب احمد انصاری کا آج91 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔

    علی گڑھ ۔ معروف دانشور، نقاد اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کے سبکدوش پروفیسر اسلوب احمد انصاری کا آج91 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔

    علی گڑھ ۔ معروف دانشور، نقاد اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کے سبکدوش پروفیسر اسلوب احمد انصاری کا آج91 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      علی گڑھ ۔ معروف دانشور، نقاد اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کے سبکدوش پروفیسر اسلوب احمد انصاری کا آج91 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ آج دوپہر تین بجے انہیں یونیورسٹی قبرستان میں سپردِ خاک کیاگیا جہاں وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ( ریٹائرڈ)، پرو وائس چانسلر برگیڈیئر ایس احمد علی( ریٹائرڈ) سمیت سینکڑوں سبکدوش اساتذہ، سینئرا ساتذہ اور ان کے رشتے داروں اور غم گساروں نے ان کے آخری سفر میں حصہ لیا۔


      اسلوب انصاری1925میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ پروفیسر انصاری نے دنیا کے باوقار تعلیمی ادارے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جس کے بعد وہ اے ایم یو کے شعبۂ انگریزی میں استاد کے عہدے پر فائز ہوئے اور1985میں یہیں سے سبکدوش ہوئے۔ ان کی کئی کتب امریکہ اور لندن سے شائع ہوئی تھیں۔ انگریزی کے ساتھ ساتھ وہ اردو کے بھی بڑے دانشور، محقق اور نقاد تھے۔ سرسید احمد خاں، غالب اور علامہ اقبال پر انہوں نے کافی مضامین قلم بند کئے ہیں۔ وہ اردو جریدے’’ نقد و نظر ‘‘ کے مدیر و پبلشر تھے۔


      پروفیسر انصاری کی مذکورہ قابلِ قدر خدمات پر انہیں ساہتیہ اکادمی اور اردو اکادمی سے بھی انعامات حاصل ہوچکے ہیں۔ 2006میں گورکھپور یونیورسٹی نے انہیں ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری سے سرفراز کیا تھا۔ پسماندگان میں ان کی دو بیٹیاں پروفیسر روشن آراء( فلسفہ) اور پروفیسر عفت آراء ( ویمنس کالج) ہیں۔

      First published: