ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

انور جلال پوری مشاعرے کی نظامت کا ایک روشن حوالہ تھے : پروفیسر ارتضیٰ کریم

انور جلال پوری کی رحلت سے اردو دنیا اس جلال و جمال سے محروم ہوگئی جو ان کی شخصیت کا لاینفک حصہ تھے۔ان کا انتقال اردو شعر و سخن کا ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 03, 2018 10:36 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
انور جلال پوری مشاعرے کی نظامت کا ایک روشن حوالہ تھے : پروفیسر ارتضیٰ کریم
فائل فوٹو

نئی دہلی: عالمی شہرت یافتہ شاعر اور نقیب مشاعرہ انور جلال پوری کے انتقال پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انور جلال پوری کی رحلت سے اردو دنیا اس جلال و جمال سے محروم ہوگئی جو ان کی شخصیت کا لاینفک حصہ تھے۔ان کا انتقال اردو شعر و سخن کا ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ انور جلال پوری نے اپنی جادوئی نظامت سے جہاں سامعین کے دلوں کو مسخر کیا وہیں اپنی شاعری کے ذریعے ایک بڑے طبقے کو اپنا اسیر بنایا۔ انھوں نے اردو زبان و ادب کی ثروت میں بھی گراں قدر اضافہ کیا ہے جسے ادبی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ انھوں نے بھگوت گیتا اور گیتانجلی جیسے شاہکارو ں کے ترجمے اردو میں کیے جو ہر طبقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھے گئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے عمر خیام کی رباعیات کا بھی ترجمہ کیا۔ انھوں نے اپنے ترجموں کے ذریعے ہندی داں طبقے کو بھی جوڑنے کی کوشش کی۔ یہ ان کا بڑا کارنامہ ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ملک زادہ منظور احمد کے بعد انور جلال پوری مشاعرے کی نظامت کے باب میں ایک روشن حوالے کی حیثیت رکھتے تھے مگر افسوس کہ نظامت کا یہ تابندہ ستارہ بھی ڈوب گیا۔

انور جلال پوری کے انتقال پر قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں ایک تعزیتی نشست ہوئی جس میں قومی اردو کونسل سے وابستہ افراد نے بھی اظہارِ تعزیت کیا ان میں پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، اسسٹنٹ ڈائرکٹر (ایڈمین) جناب کمل سنگھ، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر جناب فیروز عالم، اسسٹنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر عبدالحئی، توقیر راہی، افضل حسین خان اور حقانی القاسمی قابل ذکر ہیں۔

First published: Jan 03, 2018 10:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading