ہوم » نیوز » امراوتی

جموں وکشمیر: پروفیسرسیف الدین سوز نے کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کو"دکھاوے کے انتخابات" قراردیا

سیف الدین نے کہا کہ ’گورنرصاحب کو اس بات کا نوٹس تو لینا ہی چاہئے تھا کہ نیشنل کانفرنس، جو ریاست کی مین اسٹریم میں سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، کے بائیکاٹ نے بلدیاتی الیکشن کو مضحکہ خیزصورتحال بنا دیا تھا۔ کیا اسی پر دہلی خوش ہو گئی ہے؟‘۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 20, 2018 07:40 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جموں وکشمیر: پروفیسرسیف الدین سوز نے کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کو
پروفیسرسیف الدین سوز: فائل فوٹو

سری نگر: کانگریس کے سینئر لیڈراورسابق مرکزی وزیر پروفیسرسیف الدین سوز نے جموں وکشمیر میں 13 برس کے طویل وقفے کے بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو ’دکھاوے کے انتخابات‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی سب سے بڑی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے بائیکاٹ نے ان انتخابات کو مضحکہ خیز بنادیا ہ


ے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے حالیہ بیان پر کہا کہ شورش زدہ علاقوں میں مسئلے بندوق سے نہیں بلکہ گفت وشنید سے حل ہوتے ہیں۔ پروفیسر سوز نے ہفتہ کے روز یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا ’دہلی کو کشمیر میں حالیہ دکھاوے کے بلدیاتی انتخابات سے کیا حاصل ہوا؟ کم از کم مجھے معلوم نہیں اور گورنرصاحب (ستیہ پال ملک) نے حالیہ ایک بیان میں کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات پر دہلی بہت خوش ہے‘۔


انہوں نے کہا کہ ’گورنر صاحب کو اس بات کا نوٹس تو لینا ہی چاہئے تھا کہ نیشنل کانفرنس، جو ریاست کی مین اسٹریم میں سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، کے بائیکاٹ نے بلدیاتی الیکشن کو مضحکہ خیزصورتحال بنا دیا تھا۔ کیا اسی پر دہلی خوش ہو گئی ہے؟‘۔

پروفیسر سیف الدین سوز نے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے حالیہ بیان پرکہا ’کشمیر میں لوگوں نے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کا وہ بیان دیکھا ہی ہوگا، جس میں انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کشمیر میں دہشت پسندوں کوختم کرنے کے لئے روز بروز مزید رقومات خرچ کررہی ہے تاکہ کشمیر میں امن بحال ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں:     انتخابات کے بائیکاٹ کا شاخسانہ، بی جے پی کشمیر میں اپنی جیت کا کھاتہ کھولنے میں کامیاب

 

انہوں نے کہا کہ میری نظر میں راجناتھ سنگھ اوراُن کے ساتھیوں کے لئے’’شانتی‘‘ وہ حالت ہوتی ہے، جس میں ایسی ہی خاموشی ہوجاتی ہے، جیسے’’قبرستان‘‘میں ہوتی ہے۔ گویا وہ صورتحال جس میں سطحی خاموشی توہوجاتی ہے، مگر دلوں اورذہنوں میں بے چینی اوراضطراب باقی رہتی ہے‘۔ انہوں نے کہا ’مگر کشمیرمیں جو صورت حال فورسز نے پیدا کی ہے، وہ راجناتھ سنگھ کی سوچ کے برعکس ہے کیونکہ افسپاء جیسے کالے قانون کے استعمال سے جوقتل وغارت کا ماحول پیدا ہوا ہے، اُس سے صرف قبرستان کی خاموشی ہی پیدا ہو سکتی ہے نہ کہ امن و سکون کا قرار۔

اس طرح افسپاء کے استعمال سے جو قتل و غارت جاری ہے، اُس سے کشمیریوں کی ناراضگی روز بروز بڑھ رہی ہے اور کسی نہ کسی موقع پرجابرانہ مرکز کو حتمی طور بات سمجھ آ جائے گی۔ راج ناتھ سنگھ  کو اس پر غور کرنا چاہئے کہ کیا آخر’’جنرل صاحب کا ہی راستہ‘‘ اُن کی منزل مقصود تک جاتا ہے؟ اُن کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ دنیا میں جہاں جہاں شورش پیدا ہو گئی تھی وہاں بندوق سے نہیں بلکہ گفت و شنید سے ہی مسئلہ حل ہو گیا تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں:    کتے کی دم پر پٹاخوں کی لڑی پھوڑنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی : جموں وکشمیر پولیس سربراہ

 

یہ بھی پڑھیں:  جموں وکشمیر پولیس اچھا کام کررہی ہے، ناراضگی کی خبریں محض افواہ: گورنرستیہ پال ملک کا دعوی

 
First published: Oct 20, 2018 07:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading