உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پرفیسر شکیل صمدانی کی طلبہ کو اوقات کے صحیح استعمال کی نصیحت

    پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ اللہ نے رات سونے کے لئے اور دن کام کرنے کے لئے بنایا ہے ۔ ہمیں قدرت کے اس قانون پر عمل کرنا چاہیے

    پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ اللہ نے رات سونے کے لئے اور دن کام کرنے کے لئے بنایا ہے ۔ ہمیں قدرت کے اس قانون پر عمل کرنا چاہیے

    پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ اللہ نے رات سونے کے لئے اور دن کام کرنے کے لئے بنایا ہے ۔ ہمیں قدرت کے اس قانون پر عمل کرنا چاہیے

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      علی گڑھ : انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد اگلے پانچ سات سال طلبہ و طالبات کے لئے انتہائی اہم اور قیمتی ہوتے ہیں اور انہیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ اگر انہوںنے یہ وقت تفریحات و فضولیات میں خرچ کر دیا ، تو پوری زندگی کفِ افسوس کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ وقت ایک ربر کی طرح ہوتا ہے اُسے جتنا بھی کھینچا جائے بڑھتا ہی جائے گا اور اگر اُس کا استعمال نہ کیاجائے تو وہ واپس اپنی صحیح حالت میں آجاتا ہے ۔ اس لیے انہیںاپنے قیمتی اوقات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرناچاہیے ۔ان خیالات کا اظہار مشن آئی اے ایس علی گڑھ زون مہاجن پیلیس رام گھاٹ روڈ برانچ کا آغازکرتے ہوئے شعبہ قانون علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاذ پروفیسر شکیل صمدانی نے کیا ۔
      پروفیسر صمدانی نے کہا کہ اللہ نے رات سونے کے لئے اور دن کام کرنے کے لئے بنایا ہے ۔ ہمیں قدرت کے اس قانون پر عمل کرنا چاہیے ۔اور ذہن نشین کرنا چاہیے کہ قانون قدرت ہی ہماری فطرت کے عین مطابق ہے ۔انہوں نے مختلف تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مایوسی کفر ہے اور بحالتِ مایوسی ہمیں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو ہمارے اور ہمارے خاندان کے لئے مہلک ہو۔اخیر میں انہوں نے مشن آئی اے ایس کے ذریعہ علی گڑھ میں کو چنگ کھولے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کوچنگ سے طلباکو استفادہ کرنا چاہیے۔
      مہمان خصوصی کی حیثیت سے ادارہ تہذیب الاخلاق کے مدیر اعلیٰ وشعبہ اردو کے سینئر استاذ پروفیسر صغیر افراہیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ۱۸۵۷؁ء کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نےc c s کے ذریعہ سوِل سرویسسز کا ا ٓغاز کیا ۔ ۱۸۵۴؁ء میںانگریزی حکومت نے کچھ اصطلاحات کیں پھر سفارشات پیش ہوتی رہیں کہ ہندوستانی اس میدان میں بھی کارنامے انجام دے رہے ہیں۔آزادی کے بعد ہم نے اور بھی ثابت کردیاکہ ہر مقابلہ جاتی امتحان کو بخوبی پاس کرتے ہیں۔آج ذرائع اور وسائل ہیں ۔مشن آئی اے ایس جیسے بے لوث ادارے ہیںجو طلباء کی تمام سہولتیں مہیا کرانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ستیہ جیت پانڈے اور منوج رام تر پاٹھی، محمد اظہر انور اعظمی جیسے حضرات اگر کسی ادارے کو دیکھ رہے ہیں تو بلاشبہ ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہوں گے ۔نئی نسل کو جس طرح یہ تنظیم فعال بنائے ہوئے ملک و قوم کے لئے آفیسرس مہیا کرانے کا جتن کر رہے ہیں وہ یقینا اپنے اس نیک مقصد میںکامیاب ہوںگے بس ہمیںیکسوئی اور دلجمعی سے امتحان کی تیاری کرنی ہوگی اور نظم و نسق کے طریق ِکار کو سمجھنے کے لئے خود بھی عمل و جہد سے کام لینا ہوگا ۔مہمانوںکا استقبال کرتے ہوئے مشن آئی اے ایس کے ڈائریکٹر ستیہ جیت پانڈے نے سینٹر کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہم غریب طلباء و طالبات کی تعلیم کا بیڑا اٹھائیں گے شرط اتنی سی ہے کہ اُن میں قوم کی خدمت کا سچّا جذبہ ہو ۔
      ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی سے دور ہم انسانیت کو فروغ دینے کا جذبہ رکھتے ہیں ہم ایک ہیںاور ملک کی عظمت و سالمیت کی حفاظت ہمارا فرض عین ہے اور کیا ہی بہتر ہو جو ہم عظیم عہدہ پر فائز رہ کر ملک کی خدمت آئین کے مطابق کریں۔نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مشن آئی اے ایس کے منیجر محمد اظہر نو راعظمی نے بھی طلباء و طالبات کو سول سروسیز کی طرف متوجہ ہونے کی تلقین کی۔
      آخر میں کو ڈائریکٹر ڈاکٹر منوج رام ترپاٹھی نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سوِل سروسیز کے کو رس اور الگ الگ مضامین جیسے معلومات عامہ ،تاریخ ،جیوگرافی وغیرہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔اس موقعہ پر ڈاکٹر جینت شرما ،ڈاکٹر ایس ایم شہروز،سماجوادی پارٹی اسٹوڈنس ونگ کے مہانگر صدر منتظم قدوائی،ڈاکٹر منوج تیواری،میکش رام پوری ،منیجر محمد اظہر نو راعظمی ، حباخان ،تشبیہہ،صباخان، نیتو سنگھ رانا ،عالیہ خان ،شعیب،ہاشم،سجّاد ،درگاہ برچھی بہادر کے سکریٹری نور محمد ، امام مولانا نسیم کے ساتھ بڑی تعداد میںطلباء و طالبات موجود رہے ۔
      First published: