உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تعلیم کو اسلام نے جتنی اہمیت دی ، اتنی اہمیت دنیا کے کسی مذہب نے نہیں دی:پروفیسر شکیل صمدنی

    اہمیت ہونے کے باوجود آج کا ہندوستانی مسلمان اپنے فرض کو بھول بیٹھا ہے اور تعلیم کے میدان میں ملک کی دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتِ حال ہے جس پر ہمیں نہ صرف غور کرنا چاہئے بلکہ اس کے تدارک کی کوشش کرنی چاہئے۔

    اہمیت ہونے کے باوجود آج کا ہندوستانی مسلمان اپنے فرض کو بھول بیٹھا ہے اور تعلیم کے میدان میں ملک کی دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتِ حال ہے جس پر ہمیں نہ صرف غور کرنا چاہئے بلکہ اس کے تدارک کی کوشش کرنی چاہئے۔

    اہمیت ہونے کے باوجود آج کا ہندوستانی مسلمان اپنے فرض کو بھول بیٹھا ہے اور تعلیم کے میدان میں ملک کی دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتِ حال ہے جس پر ہمیں نہ صرف غور کرنا چاہئے بلکہ اس کے تدارک کی کوشش کرنی چاہئے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نجیب آباد : قاسمیہ انٹر کالج نجیب آباد میں کالج انتظامیہ کی جانب سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مشہور اور معروف استاد پروفیسر شکیل صمدانی کے توسیعی خطبہ کا انعقاد بعنوان ملت کو در پیش مسائل اور ہماری ذمہ داریاں کیا گیا، جس کی صدارت انتظامیہ کمیٹی کے صدر اکرام انصاری نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ اسلام نے جتنی اہمیت تعلیم کو دی ہے اتنی اہمیت دنیا کے کسی مذہب نے نہیں دی اور یہی وجہ ہے کہ خالق کائنات نے اللہ کے رسول پر جو پہلی آیت نازل کی وہ تعلیم کے سلسلے میں ہی تھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق ِ کائنات نے دنیا کے لیے سب سے اہم تعلیم کو ہی مانا ہے۔
      اتنی اہمیت ہونے کے باوجود آج کا ہندوستانی مسلمان اپنے فرض کو بھول بیٹھا ہے اور تعلیم کے میدان میں ملک کی دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتِ حال ہے جس پر ہمیں نہ صرف غور کرنا چاہئے بلکہ اس کے تدارک کی کوشش کرنی چاہئے۔
      مہمانِ خصوصی نے مزید کہا کہ اسلام نے عورتوں اور مردوں کی تعلیم میں کوئی فرق نہیں کیا ہے،تعلیم حاصل کرنا دونوں کے لیے فرض ہے۔اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خواتین زندگی کے دوسرے شعبہ جات میں بھی مردوں کے شانہ بشانہ حصہ لیتی تھیں اور خاندان کے ساتھ ساتھ سماج میں بھی اپنا اہم رول ادا کرتی تھیں۔مذہب اسلام خواتین کو ہر طرح کی تعلیم اور ہر طرح کے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے بشرط یہ کہ شریعت کی حدیں پامال نہ ہوں اور اسلام کے تقدس کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
      انٹر کالج کی طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آج یہ عزم لینا چاہئے کہ وہ تعلیم کے اوپر بھر پور توجہ مرکوز کریں گی اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی۔پروفیسر صمدانی نے مزید کہا کہ ملک میں کہیں 30فیصدی اور کہیں 50فیصدی تک سیٹیں خواتین کے لیے مختص ہو رہی ہیں،اگر مسلمان خواتین اس میں پیچھے رہ گئیں تو نوکریوں میں مسلمانوں کا تناسب اور کم ہو جائے گا۔
      انہوں نے کہا کہ کمپوٹر ،لیپ ٹاپ،انٹر نیٹ اور واٹس ایپ وغیرہ کا حد سے زیادہ استعمال صحت کے ساتھ ساتھ دماغ کو بھی مجروح واور پراگندہ کر دیتا ہے۔ انسان ایک خیالی دنیا میں رہتا ہے اور اپنے قیمتی وقت کو برباد کرکے اپنے مستقبل کو بھی تاریک کر لیتا ہے۔انہوں نے طلبہ اور طالبات سے وعدہ لیا کہ وہ آج سے ان چیزوں پر کم سے کم وقت خرچ کریں گے اور اپنی قسمت کو سنوارنے کے لیے تعلیم کی طرف لگ جائیں گے۔
      ہندوستانی آئین اور قانون کے کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ دستورِ ہند دنیا کے بہترین آئین میں سے ایک ہے جہاں ہمیں ہر طرح کے مواقع حاصل ہیں،ہر طرح کی آزادی حاصل ہے،ہمیں تعلیمی تشہیر،تعلیمی بیداری،اسکول کالجز اور یونیورسٹیاں کھولنے کی اجازت،مذہبی آزادی اور جمہوری حکومتیں قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔اگر ہم ان آزادیوں اور مراعات کا فائدہ نہیں اٹھاتے تو اس میں کس کا قصور ہے؟
      جلسے کی صدارت کرتے ہوئے اکرام احمد انصاری، صدر کالج انتظامیہ نے کہا کہ جمہوری ہندوستان میں عزت و وقار و افتخار حاصل کرنے کا ذریعہ تعلیم ہے اور ہمیں اسی پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر صمدانی کا خطاب ایک ایسا خطاب تھا جو انہوں نے برسوں کے بعد سنا ہے اور اس سے حاضرین کو یقیناََ فائدہ ہوگا۔جلسے کی نظامت کے فرائض ماسٹر نعیم نے نجام دیے اور مہمانان کا استقبال کالج کے پرنسپل مہتاب احمد نے کیا۔اس موقعہ پر منیجر اختر ایڈووکیٹ،نائب صدر امجد علی،خزانچی اقبال احمد،ممبر شاہد بھائی،اشفاق صاحب،خالد مسعود اور گرلز سیکشن کی پرنسپل محترمہ قیصر ،محترمہ دل افروز،محترمہ سنیتا،آصفہ انجم،عبد اللہ صمدانی اور بڑی تعداد میں طلبہ طالبات اور اساتذہ کرام نے شرکت کی۔
      First published: