ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ کے اقلیتی کردار سے انکار تاریخ اورآئین کی نفی ہے: پروفیسر طاہر محمود

نئی دہلی۔ ممتاز ماہر قانون اور قومی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ پروفیسر طاہرمحمود نے کہا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں حکومت کی طرف سے جامعہ ملّیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کی مخالفت کیا جانا تاریخی حقائق کو جھٹلانے اور اقلیّتوں کے آئینی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 23, 2018 09:26 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جامعہ کے اقلیتی کردار سے انکار تاریخ اورآئین کی نفی ہے: پروفیسر طاہر محمود
ممتاز ماہر قانون اور قومی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ پروفیسر طاہرمحمود: فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ ممتاز ماہر قانون اور قومی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ پروفیسر طاہرمحمود نے  کہا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں حکومت کی طرف سے جامعہ ملّیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کی مخالفت کیا جانا تاریخی حقائق کو جھٹلانے اور اقلیّتوں کے آئینی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ جامعہ کا جنم مسلمانوں کے قائم کردہ عظیم تاریخی ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی کوکھ سے ہوا تھا اور بالغ ہونے کے بعد چونکہ اُس نے کوئی دھرم پریورتن نہیں کیا اس لئے اس کی پیدائشی ولدیت ا قلیّتی کردارکی شکل میں آج بھی باقی ہے۔


انہوں نے زور دے کر کہا کہ’’ اگر مولانا محمود حسن ،محمّد علی جوہر، حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر مختاراحمد انصاری اور عبد المجید خواجہ وغیرہ وغیرہ مسلمان تھے توجامعہ کے مسلم اقلّیت کا قائم کردہ ادارہ ہونے سے انکار کیا ہی نہیں جا سکتا‘‘۔ قانونی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر طاہر محمود نے کہا کہ جامعہ کا اقلیتی کردار 1963میں اسے معنوی یونیورسٹی کا درجہ ملنے پر بھی برقرار رہا اور 1988میں اس کیلئے پارلیمانی ایکٹ بننے کے بعد بھی اس کی اقلیتی حیثیت غیر متاثر رہی۔ کوئی نئی یونیورسٹی پہلے پہل قائم کرنے اوربرسوں سے موجود کسی قدیم ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ دینے میں بہت فرق ہے۔ بعد والی صورت میں ادارے کا تاریخی کردار ہرگز نہیں بدلتا ۔


انہوں نے مزید کہا کہ آئین کی دفعہ30 کا اطلاق کا تعلق اس آئین کے نفاذ کے بعد قائم ہونے والے اداروں سے ہی نہیں بلکہ پہلے سے قائم اداروں پر بھی اسکا پورا پورا اطلاق ہوتا ہے اور اس کے بموجب جامعہ یقیناً ایک اقلیتی ادارہ ہی ہے۔ پروفیسر محمود نے امّید ظاہر کی ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے فاضل جج ان تاریخی حقائق اور قانونی نکات کا پاس رکھیں گے۔

First published: Mar 23, 2018 09:26 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading