உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ترقی کا مطلب عمارت اورموبائل فون نہیں بلکہ آزادی اور بھائی چارہ کو فروغ دینا ہے: مقررین

      انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی جانب سے ہورہے اس سمپوزیم میں دستورمیں آزادی اور بھائی چارگی کے تصور پر بات ہوئی۔

    انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی جانب سے ہورہے اس سمپوزیم میں دستورمیں آزادی اور بھائی چارگی کے تصور پر بات ہوئی۔

    انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی جانب سے ہورہے اس سمپوزیم میں دستورمیں آزادی اور بھائی چارگی کے تصور پر بات ہوئی۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ ملک کے حالات اور اقلیت مخالف موضوعات کے گرم ہونے سے اقلیتیں پریشان ہیں اور ان کی فکرمندی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دہلی میں ایک پروگرام کے دوران یہ فکرمندی کھل کر سامنے آئی ۔  ا نسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی جانب سے ہورہے اس سمپوزیم میں دستورمیں آزادی اور بھائی چارگی کے تصور پر بات ہوئی۔


      سمپوزیم میں اقلیتوں کے علاوہ اکثریتی طبقہ کے کئی دانشور شامل ہوئے۔ سمپوزیم کے دوران عیسائی اور مسلم دانشوروں کے ذریعہ ملک کے حالات پر تشویش اور فکرمندی کا اظہار کیا گیا۔ خاص طور پر آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کی جانب سے اشتعال انگیز بیان بازی سے اقلیتوں میں فکرمندی دکھائی دی۔ اقلیتی دانشوروں نے مرکزی حکومت کے رویہ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ترقی کا مطلب عمارت اور موبائل فون نہیں بلکہ آزادی اور بھائی چارہ میں اضافہ ہے۔


      سمپوزیم کے دوران ڈاکٹر ذاکر نائیک پر کارروائی کے شور اور نئی تعلیمی پالیسی کے بھگوا کرن پر بھی فکرمندی کا اظہار کیا گیا اور سوا ل اٹھایا گیا کہ اقلیت مخالف موضوعات کا تسلسل کیوں جاری ہے۔ کیا یہ سب ایک سازش کے تحت ہورہا ہے؟


      manzoor alam


      سمپوزیم میں کہا گیا کہ ملک کے تمام لوگوں کو دستور میں دی گئی آزادی اور بھائی چارہ کو برقرار کھنے کے لئے کوشش کرنا چاہیے تاہم اس کے لئے بیداری لانے کی ضرورت ہے۔

      First published: