உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Prophet Mohammad: نماز جمعہ کے بعد احتجاج سے کریں گریز، AIMIM و دیگرمسلم تنظیموں نے کی گزارش

    مشتاق ملک نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ تشدد میں ملوث نہ ہوں۔

    مشتاق ملک نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ تشدد میں ملوث نہ ہوں۔

    جماعت اسلامی ہند (Jamaat-e-Islami Hind) کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ پرامن احتجاج کے لیے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے سماج دشمن عناصر اور سماج میں تفرقہ پیدا کرنے کے خواہش مندوں کے جال میں نہ آئیں۔

    • Share this:
    مرزا غنی بیگ

    گزشتہ جمعہ کو ہلچل کے بعد تشدد اور آتش زنی میں ملوث افراد کے خلاف اتر پردیش پولیس کی کارروائی کے پس منظر میں مسلم تنظیموں اور این جی اوز نے کمیونٹی کے ممبران پر زور دیا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز تبصروں پر ایسے احتجاج اور مظاہروں سے گریز کریں۔

    آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کی اتر پردیش یونٹ نے بھی اپنی پارٹی کے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ ریاست بھر میں نماز جمعہ کے بعد مساجد کے قریب احتجاج اور مظاہروں میں شرکت نہ کریں۔

    اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر شوکت علی نے نیوز 18 ڈاٹ کام کو بتایا کہ اے آئی ایم آئی ایم نفرت انگیز تقاریر، دھرنوں، مظاہروں اور پرتشدد سرگرمیوں کو فروغ دینے یا غیر آئینی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی ہے۔

    شوکت علی نے کہا کہ پارٹی یونٹ نے آفیشل واٹس ایپ گروپ کے ذریعے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے اور اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ نماز جمعہ کے بعد غیر آئینی سرگرمیوں، دھرنوں، مظاہروں اور پرتشدد سرگرمیوں سے دوری برقرار رکھیں۔

    انھوں نے اے آئی ایم آئی ایم ڈسٹرکٹ یونٹ کے صدر شاہ عالم اور پارٹی کے دیگر کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر پریاگ راج پولیس کی تنقید کی۔ علی نے الزام لگایا کہ کسی ثبوت یا گواہوں کی گواہی کے بغیر یوپی پولیس اے آئی ایم آئی ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف فرضی کیس درج کر رہی ہے۔

    انہوں نے پوچھا کہ پولس ایسی تنظیموں کو تلاش کرنے سے کیوں قاصر ہے جنہوں نے مختلف شہروں جیسے مرادآباد، پریاگ راج اور سہارنپور میں پوسٹر چھاپے تھے جس میں مسلمانوں کو احتجاج کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

    جماعت اسلامی ہند (Jamaat-e-Islami Hind) کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ پرامن احتجاج کے لیے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے سماج دشمن عناصر اور سماج میں تفرقہ پیدا کرنے کے خواہش مندوں کے جال میں نہ آئیں۔

    ایک میڈیا بیان میں جماعت اسلامی ہند (JIH) نے مسلمانوں کے مظاہروں پر جھارکھنڈ کے رانچی، اتر پردیش کے پریاگ راج اور ملک کے دیگر مقامات پر پولیس اور انتظامیہ کی زبردستی کی شدید مذمت کی جاتی ہے اور غیر جانبدارانہ عدالت کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ حراستی تشدد، پولیس کی زیادتیوں اور مکانات کی مسماری کی تحقیقات اور قصورواروں کو جلد از جلد سزا دی جائے۔

    دریں اثنا تلنگانہ اور آندھرا پردیش جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہتک آمیز ریمارکس پر احتجاج درج کرنے کے لیے ہفتہ کو حیدرآباد میں مارچ کی کال دی ہے۔

    مزید ٖپڑھیں: World Blood Donor Day: ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے کی کیا ہے اہمیت و تاریخ؟ جانیے مکمل تفصیلات

    تحریک مسلم شبان (Tehreek-E-Muslim Shaban) کے صدر مشتاق ملک نے کہا کہ وہ حیدر آباد میں اندرا پارک کے قریب دھرنا چوک پر حرمت رسول رحمت اللعالمین ﷺ ملین مارچ کا انعقاد کریں گے۔

    یہ بھی پڑھئے: کشمیر کے بعد اب جموں میں بھی کشمیری پنڈتوں نے شروع کیا احتجاجی دھرنا، جانئے کیوں؟

    یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مشتاق ملک نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ تشدد میں ملوث نہ ہوں۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: