ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الہ آباد : پولیس بھی ختم نہیں کرا سکی روشن باغ کا احتجاجی دھرنا

شہریت قانون کے خلاف الہ آباد روشن باغ میں جاری احتجاجی دھرنے پر بیٹھی خواتین نے تمام دباؤ کے باوجود دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔

  • Share this:
الہ آباد : پولیس بھی ختم نہیں کرا سکی روشن باغ کا احتجاجی دھرنا
الہ آباد : پولیس بھی ختم نہیں کرا سکی روشن باغ کا احتجاجی دھرنا

الہ آباد۔ شہریت قانون کے خلاف الہ آباد  روشن باغ میں جاری احتجاجی دھرنے پر  بیٹھی خواتین  نے تمام دباؤ کے باوجود دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ایسی امید کی جا رہی تھی کہ دہلی چناؤ کے بعد خواتین اپنا دھرنا  خود ہی ختم کر دیں گی ۔ لیکن خواتین نے اس طرح کی تمام  باتوں کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حکومت کی طرف سے شہریت قانون  اور این پی آر کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا جاتا، اس وقت تک روشن باغ کا دھرنا یوں ہی جاری رہے گا ۔


ایک ماہ پہلے روشن باغ میں خواتین نے جب اپنے احتجاجی دھرنے کی شروعات کی تھی تو کسی کو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شروع کیا گیا یہ احتجاجی دھرنا اتنا طویل کھنچے گا ۔ لیکن شدید سردی کے با وجود خواتین روشن باغ کے منصور  علی پارک میں حکومت کے فیصلے کے خلاف دن رات سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔ اس دوران پولیس نے کئی بار احتجاجی دھرنے کو ختم کرانے کی کوشش بھی کی ۔لیکن پولیس کی  کوشش ہر بار ناکام  ثابت ہوئی۔ یہ بھی امید کی جا رہی تھی کہ دہلی چناؤ کے بعد روشن باغ کا دھرنا  بھی ختم ہو جائے گا ۔لیکن خواتین نے دھرنے کو ختم کرنے کی بات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔


الہ آباد کا روشن باغ علاقے میں احتجاج کی علامت بن چکا ہے


روشن باغ احتجاجی دھرنے کو ختم کرنے کا یوگی حکومت کی طرف سے شدید دباؤ ہے ۔ مقامی انتظامیہ کی طرف سے  کئی بار منصورپارک کو خالی کرنے کا زبانی الٹی میٹم بھی  دیا جا چکا ہے ۔لیکن خواتین اپنے پورے عزم کے ساتھ دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ دھرنے میں شامل بعض سماجی تنظیموں کی طرف سے بھی پورا تعاون مل رہا ہے ۔ سماجی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ شہریت قانون کے خاتمے تک ان کا دھرنا جاری رہے گا۔

الہ آباد کا روشن باغ علاقے میں احتجاج کی علامت بن چکا ہے ۔ ایک ماہ گذرنے کے بعد بھی خواتین کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔خواتین کا کہنا ہے کہ وہ آئین میں  دئیے گئے اپنے بنیادی حقوق کی لڑائی  لڑ رہی ہیں ۔ خواتین کا کہنا ہے کہ جب تک شہریت قانون کو واپس نہیں لیا جاتا ان کا یہ احتجاج  یوں ہی جا ری رہے گا ۔
First published: Feb 10, 2020 07:42 PM IST