ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نہیں تھم رہی ہے ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کی آگ، اب تک 8 لوگوں کی موت

چندی گڑھ ۔ جاٹ تحریک کو لے کر فوج کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Feb 20, 2016 11:33 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نہیں تھم رہی ہے ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کی آگ، اب تک 8 لوگوں کی موت
چندی گڑھ ۔ جاٹ تحریک کو لے کر فوج کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔

روہتک / چندی گڑھ: ہریانہ میں آج بھی پرتشدد جاٹ تحریک جاری رہی۔ مظاہرین نے کئی مقامات پر سرکاری املاک، بسوں اور دیگر ذاتی گاڑیوں اور املاک کو جلا کر راکھ کر دیا۔ کئی مقامات پر ہائی وے پر جام لگایا گیا اور جگہ جگہ پر ٹرینوں کی پٹری اکھاڑی گئی ، جس کی وجہ سے ریل خدمات بند کرنی پڑیں۔


H_2


حالات بے قابو ہوتے دیکھ کر فوج بلانی پڑی اور تشدد زدہ حصار، سونی پت اور جیند اضلاع میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ اس کے علاوہ روہتک، بھیوانی، جھجھر، کیتھل اضلاع میں بھی تشدد کے کئی واقعات پیش آئے ۔ ریاست میں اب تک 8 افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔


 اس دوران بی جے پی اور حکومت میں جاٹ وزراء نے بھی امن کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ مرکزی حکومت میں وزیر اور مظفرنگر سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنجیو بالیان نے کہا کہ وہ ہریانہ میں امن چاہتے ہیں اور حکومت اسے لے کر کافی مثبت ہے۔


H_3


بالیان بی جے پی کے جاٹ لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی ریزرویشن کو لے کر یقین دہانی کرا چکے ہیں۔ عوام کو اب ان پر یقین کرنا چاہئے۔ میں احتجاج واپس لینے کی اپیل کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امن برقرار رکھنے کی مسلسل کوشش کی لیکن مظاہرین تک بات نہیں پہنچی۔ ہم بات چیت کریں گے اور شام تک کوشش کریں گے۔


ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اس درمیان وزیر اعلی کی چندی گڑھ رہائش گاہ پر ہنگامی میٹنگ بھی شروع ہو گئی ہے۔ اس میٹنگ میں وزیر رام ولاس شرما اور کیپٹن ابھیمنیو بھی شامل ہیں۔


Haryan_25


ہریانہ میں ریزرویشن پر جاری جاٹ تحریک کے درمیان آج ضلع کے میہم میں تقریبا 2000-2500 کی تعداد میں مشتعل ہجوم نے پولیس تھانے، پٹرول پمپ، سرکاری عمارت اور بینکٹ ہال میں آگ لگا دی۔ میہم پولیس تھانے کے نائب انسپکٹر اور تھانہ انچارج راجندر سنگھ نے بتایا کہ '2000 سے 2500 لوگوں کے ایک گروپ نے پولیس تھانے کو آگ لگا دی۔ انہوں نے آج پرتشدد ہوتے ہوئے پٹرول پمپ، سرکاری عمارت اور بینکٹ ہال کو بھی آگ کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں کشیدگی کی صورتحال بنی ہوئی ہے اور حالات کو کنٹرول میں لانے کے لئے اضافی فورس کو طلب کیا گیا ہے۔


روہتک ضلع میں آنے والا میہم ریاست میں چل رہی جاٹ تحریک سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے۔ صورت حال کو کنٹرول میں لانے کے لئے ضلع میں فوج کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ ہریانہ میں جاٹ تحریک نے پرتشدد شکل لے لی ہے اور ہفتہ کو بھی حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ صورت حال کو کنٹرول میں کرنے کے لئے آٹھ اضلاع- روہتک، بھیوانی، جھجھر، سونی پت، حصار، پانی پت، جند اور کیتھل میں فوج کے جوانوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ جاٹ برادری کی تحریک کا سب سے زیادہ اثر روہتک ضلع میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں فوج کی تعیناتی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کی گئی ہے، کیونکہ مظاہرین نے فوج کے جوانوں کے داخل ہونے والے تمام سڑکوں کو بند کر دیا ہے۔


جاٹ برادری کے لوگ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شہر میں جمعہ کی رات بھی لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات ہوئے۔ بے قابو بھیڑ نے مال، دکانوں اور دیگر عمارتوں کو نشانہ بنایا اور ان میں سے کئی کو آگ کے حوالے کر دیا۔ سڑکوں پر ناکہ بندی کی وجہ سے فوج کی تعیناتی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کی گئی۔ فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں نے کئی کھیپ میں جوانوں کو روہتک کے مختلف حصوں میں پہنچایا۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ تقریباً 20-30 جوانوں کو ہیلی کاپٹروں سے روہتک لایا گیا ہے۔ انہیں ان علاقوں میں تعینات کیا جائے گا، جہاں جاٹ مظاہرین کا سب سے زیادہ اثر ہے۔

First published: Feb 20, 2016 03:34 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading