ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف اے بی وی پی کا مظاہرہ

نئی دہلی۔ پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گرو اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ ( جے کے ایل ایف) کے شریک بانی مقبول بھٹ کی یاد میں پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے کی مخالفت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلبہ تنظیم ' اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نےکل جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار کے خلاف ان کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 11, 2016 09:48 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف اے بی وی پی کا مظاہرہ
نئی دہلی۔ پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گرو اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ ( جے کے ایل ایف) کے شریک بانی مقبول بھٹ کی یاد میں پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے کی مخالفت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلبہ تنظیم ' اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نےکل جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار کے خلاف ان کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا۔

نئی دہلی۔ پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گرو اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ ( جے کے ایل ایف) کے شریک بانی مقبول بھٹ کی یاد میں پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے کی مخالفت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلبہ تنظیم ' اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نےکل جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار کے خلاف ان کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا۔ اے بی وی پی کے طالب علموں نے الزام لگایا کہ مسٹر جگدیش کمار نے بائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے دباؤ میں آکر اس طرح کے پروگرام کے انعقاد کی اجازت دی تھی۔ جب انتظامیہ سے اس کی شکایت کی گئی تو انہوں نے اجازت واپس لے لی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس کی اجازت کیوں دی گئی؟


 اے بی وی پی کا کہنا ہے کہ پروگرام کے آرگنائزر افضل گرو کو شہید کا درجہ دے رہے تھے جس کی مخالفت کی گئی۔ واضح ر ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے کے ملزم افضل گورو کو 9 فروری 2013 کو پھانسی دی گئی تھی، جبکہ مقبول بھٹ کو دوہرے قتل کے الزام میں 11 فروری 1984 کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔

First published: Feb 11, 2016 09:46 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading