ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے: مظاہروں کے درمیان پوسٹر وار، وارانسی میں لگے مسلمانوں کو ’ گھر واپسی‘ کی صلاح والے پوسٹر

روشن پانڈے نے شاہین باغ احتجاج کو ہندو مخالف بتاتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ میں مسلمانوں کے ذریعہ تین خواتین کو برقع پہنے اور پیشانی پر بندی لگائے دکھایا گیا ہے۔

  • Share this:
سی اے اے: مظاہروں کے درمیان پوسٹر وار، وارانسی میں لگے مسلمانوں کو ’ گھر واپسی‘ کی صلاح والے پوسٹر
وارانسی میں لگے پوسٹر

وارانسی۔ شہریت ترمیمی قانون (CAA) پارلیمنٹ سے پاس ہونے کے کچھ دن بعد سے ہی جنوبی دہلی کے شاہین باغ( Shaheen Bagh) سمیت ملک کے کئی حصوں میں اس کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ادھر، ان مظاہروں کو لے کر پوسٹر وار بھی شروع ہو گئی ہے۔ اسی ضمن میں اب وارانسی میں ایک پوسٹر سامنے آیا ہے جس میں مسلمانوں کو گھر واپسی کی صلاح دی گئی ہے۔ ہندو سماج پارٹی کے ریاستی نائب صدر روشن پانڈے نے یہ پوسٹر جاری کئے ہیں۔ روشن پانڈے نے یہ پوسٹر انگلشیا لائن تراہے پر لگوائے ہیں جس میں مسلم خواتین کو ہندو مذہب میں آنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو ہندو مذہب میں گھر واپسی کرنے پر این آر سی اور سی اے اے سے نجات دینے کا پیغام لکھا ہے۔


شاہین باغ میں جاری احتجاج کا ایک منظر


روشن پانڈے نے شاہین باغ میں مبینہ طور پر لگے ہندو مخالف پوسٹر کا عنوان ’ ہم دیکھیں گے‘ کو بھی اپنے پوسٹر کے توسط سے ’ ہم بھی دیکھیں گے اور ہم دیکھ رہے ہیں‘ لکھا ہے۔ روشن پانڈے نے شاہین باغ احتجاج کو ہندو مخالف بتاتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ میں مسلمانوں کے ذریعہ تین خواتین کو برقع پہنے اور پیشانی پر بندی لگائے دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پوسٹر کے نیچے فیض کی شاعری ’ ہم دیکھیں گے‘ کے عنوان سے کچھ لائنیں بھی لکھی ہوئی ہیں۔


ہندو سماج پارٹی کے ریاستی نائب صدر روشن پانڈے نے یہ پوسٹر جاری کئے ہیں۔


روشن پانڈے نے کہا کہ یہ پوسٹر واضح طور پر ہندوؤں پر اسلامی برتری قائم کرنے اور ہندوؤں کے تئیں نفرت جتانے سے بھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ہندو سماج پارٹی کی طرف سے میں نے یہ پوسٹر جاری کر کے ان لوگوں کو جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پوسٹر میں نے بہت سوچ سمجھ کر لگوایا ہے۔ ہمیں مسلمانوں سے کوئی اعتراض نہیں ہے، وہ ہمارے ہندو بھائی ہی ہیں۔
First published: Jan 20, 2020 12:48 PM IST