ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Farmers' Protest: سنگھو بارڈر سے نکلے کسان لیڈران، 3 بجے حکومت سے بات چیت

وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسان تنظیموں کو یکم دسمبر کو سہ پہر 3 بجے، نئی دہلی کے وگیان بھون میں بات چیت کرنے کی دعوت دی ہے۔ وزراء کی ایک اعلی سطحی کمیٹی کسانوں کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ اس میٹنگ میں ان تمام تنظیموں کو دعوت دی گئی ہے جو پچھلی میٹنگ میں بلائے گئے تھے۔

  • Share this:
Farmers' Protest: سنگھو بارڈر سے نکلے کسان لیڈران، 3 بجے حکومت سے بات چیت
حکومت نے کسانوں کو بات کرنے کی دعوت دی

نئی دہلی۔ ملک میں کسانوں کی تحریک سے فکرمند حکومت نے کسان تنظیموں کے نمائندوں کو یکم دسمبر کو مذاکرات کے لئے مدعو کیا ہے۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسان تنظیموں کو یکم دسمبر کو سہ پہر 3 بجے، نئی دہلی کے وگیان بھون میں بات چیت کرنے کی دعوت دی ہے۔ وزراء کی ایک اعلی سطحی کمیٹی کسانوں کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ اس میٹنگ میں ان تمام تنظیموں کو دعوت دی گئی ہے جو پچھلی میٹنگ میں بلائے گئے تھے۔


بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا۔ کسان تنظیمیں آج حکومت سے بات چیت کرنے کے لئے دوپہر 3 بجے وگیان بھون جائیں گی۔ وہاں بات چیت میں کسانوں کے حق میں جو بھی فیصلہ ہو گا، اسے ہم سب مانیں گے۔



سردی اور کووڈ ۔19 کے پیش نظر یہ بات چیت جلد شروع کی گئی ہے تاکہ کسان تنظیموں کے ممبروں کو پریشانی نہ ہو۔ اس سے قبل یہ میٹنگ 3 دسمبر کو طے پائی تھی۔ نریندر تومر نے کہا کہ حکومت کسانوں سے بات کرکے مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے۔ مودی حکومت کسانوں کی مشکلات کے لئے پوری طرح عہد بستگی کے ساتھ کھڑی ہے۔ گذشتہ چھ سالوں کے دوران زراعت اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کے لئے تاریخی کام ہوئے ہیں۔ نئے زرعی قوانین کے بارے میں کسانوں میں گمراہی پیدا ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بھی کسانوں کے ساتھ دو دور کی بات چیت ہوچکی ہے۔ سیکرٹری زراعت نے 14 اکتوبر کو بات چیت کی جبکہ 13 نومبر کو وزیر زراعت اور وزیر خوراک و سپلائی نے کسان نمائندوں سے بات چیت کی۔


دراصل زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کسانوں کی تنظیمیں قومی دارالحکومت دہلی پہنچ گئی ہیں۔ پچھلے کئی دنوں سے بہت سی بڑی سڑکوں کو جام کردیا گیا ہے۔

یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 01, 2020 02:59 PM IST