ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش: حق و انصاف کی جنگ میں جمہوریت پر اٹھتے سوال

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کہتے ہیں کہ موجودہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں عوام مخالف پالیسیوں اور کسان و مزدور مخالف اقدامات و قوانین کے سبب یقین و اعتبار کھو چکی ہیں۔

  • Share this:
اترپردیش: حق و انصاف کی جنگ میں جمہوریت پر اٹھتے سوال
اترپردیش: حق و انصاف کی جنگ میں جمہوریت پر اٹھتے سوال

لکھنئو۔ ملک میں کسانوں اور حکومت کے مابین بڑھتی کشیدگی سے جو ماحول پیدا ہوا ہے اس کو لے کر سماج کے ہر طبقے ہر شعبے کے لوگوں میں بے چینی محسوس کی جارہی ہے۔ مسلسل گفت و شنید ،میٹنگوں کے انعقاد اور مذاکرات کے باوجود بھی مسائل کا حل نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کر رہاہے کہ موجودہ اقتدار میں عوام اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان فاصلے خاصے بڑھے ہوئے ہیں۔ بات اگر اتر پردیش کے تناظر میں کریں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں بھی بر سر اقتدار جماعت کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں کسانوں کے خیالات کی ترجمانی و عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔


اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کہتے ہیں کہ موجودہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں عوام مخالف پالیسیوں اور کسان و مزدور مخالف اقدامات و قوانین کے سبب یقین و اعتبار کھو چکی ہیں۔ ملک سیاسی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہاہے جہاں گھروں سے سرحدوں تک بے یقینی مجبوری اور لاچاری کی فضا ہے اور جمہور و جمہوریت کے لئے ناقابل برداشت مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ جس دھرتی پر کسانوں کو ہی انصاف نہیں ملے گا تو وہ دھرتی اپنے دیش واسیوں کا پیٹ کیسے بھر پائے گی۔معروف سیاسی رہنما اور سماجی کارکن صلاح الدین صدیقی کہتے ہیں کہ موجودہ اقتدار میں من مانے فیصلے کرنے  اور آمریت کی طرح قانون بنانے اور پھر اس کو جبراً عوام پر تھوپنے کے عمل نے لوگوں کو بیزار کردیا ہے اور کسان مزدور غریب دلت پسماندہ سبھی پچھڑے طبقے اس احساس میں مبتلا ہورہے ہیں کہ حکومت ایک مخصوص طبقے اور مٹھی بھر لوگوں کے لئے کام کررہی ہے۔ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے سیاسی نظام کی درستگی اور تبدیلی ضروری ہے۔


صلاح الدین یہ بھی کہتے ہیں کہ تبدیلی کی یہ راہ یہ تحریک اتر پردیش سے دلی کے ایوان تک پہنچے گی جب تک اس دیش میں کسانوں مزدوروں دلتوں اور سبھی مذاہب کے پچھڑے اور کمزور لوگوں کو انصاف نہیں دیا جائے گا تب تک ملک آگ و خون میں جلتا جھلستا رہے گا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ اتر پردیش ملک کی بڑی ریاست ہے اور یہاں کی سیاست سے مرکزی حکومت متاثر ہوتی ہے اس پس منظر میں صدیقی یہ بھی کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں لوگوں کو بہن جی کا وہ بیان یاد آرہا ہے جب انہوں نے کہا تھا یہ دیش کسانوں جوانوں مزدوروں غریبوں دلتوں  کمزوروں سے طاقت حاصل کرتا ہے جب تک کسان کا پیٹ نہیں بھرے گا ملک بھوکا رہے گا اس لئے کسانوں کے مسائل حل ہونے ہی چاہئیں۔


اتر پردیش میں بدلتے سیاسی رجحانات کے حوالے سے جو قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ان سے یہی اشارے مل رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں سماج کے کمزور لوگوں کی نگاہیں بی ایس پی کی طرف مرکوز ہورہی ہیں۔ اگر اسد الدین اویسی، شیو پال سنگھ یادو اور کئی دیگر چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں کا رخ بی ایس پی کی جانب ہوا تو منظر نامہ بڑی تبدیلی کا  ہوسکتا ہے حالانکہ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ کے بیانات کی روشنی میں صلاح الدین صدیقی نے یہ بھی کہا کہ بی ایس پی آئندہ الیکشن میں اپنے طور پر میدان میں اترے گی۔ چونکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ جب جب بی ایس پی نے دوسری سیاسی جناعتوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے تو بی ایس پی کو فائدہ کم نقصان زیادہ ہوا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 28, 2021 09:40 PM IST