ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

رنجن گگوئی کے راجیہ سبھا جانے کو لے کر اٹھے سوال، اویسی نے کہا۔ کیا یہ تحفہ کے بدلے تحفہ ہے؟

ایک ٹویٹ میں اویسی نے راجیہ سبھا کے لئے نامزد ہونے کے نوٹیفکیشن کے ساتھ لکھا ’ کیا یہ تحفہ کے بدلے تحفہ ہے؟ لوگوں کو ججوں کی آزادی پر یقین کیسے ہو گا؟

  • Share this:
رنجن گگوئی کے راجیہ سبھا جانے کو لے کر اٹھے سوال، اویسی نے کہا۔ کیا یہ تحفہ کے بدلے تحفہ ہے؟
رنجن گگوئی کے راجیہ سبھا جانے کو لے کر اٹھے سوال

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ  (Supreme Court) کے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی (Former CJI Ranjan Gogoi) کو صدر رام ناتھ کووند (Ramnath Kovind) کے ذریعہ راجیہ سبھا کے لئے نامزد کئے جانے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی (asaduddin owaisi) نے سوال کھڑے کئے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں اویسی نے راجیہ سبھا کے لئے نامزد ہونے کے نوٹیفکیشن کے ساتھ لکھا ’ کیا یہ تحفہ کے بدلے تحفہ ہے؟ لوگوں کو ججوں کی آزادی پر یقین کیسے ہو گا؟ کئی سوال ہیں‘۔ بتا دیں کہ ’ کڈ پرو کو‘ کا مطلب ہوتا ہے ’ کسی چیز کے بدلے کوئی چیز دینا‘۔



گگوئی کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کئے جانے پر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے بھی سوال کئے۔ سبل نے ٹویٹ کر دعویٰ کیا کہ گگوئی عدلیہ اور خود کی ایمانداری سے سمجھوتہ کرنے کے لئے یاد کئے جائیں گے۔


کپل سبل نے ٹویٹ کیا ’ جسٹس ایچ آر کھنہ اپنی ایمانداری، حکومت کے سامنے کھڑے ہونے اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لئے یاد کئے جاتے ہیں‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جسٹس گگوئی راجیہ سبھا جانے کے لئے سرکار کے ساتھ کھڑے ہونے اور سرکار اور خود کی ایمانداری کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لئے یاد کئے جائیں گے۔

بتا دیں کہ وزارت داخلہ نے پیر کو اس بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ صدر رام ناتھ کووند نے جسٹس گگوئی کو آئین کے آرٹیکل 80 کے سیکشن 3 کے تحت حاصل کردہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا ہے۔

جسٹس گگوئی جو ملک کے 46 ویں چیف جسٹس تھے ، پچھلے سال 17 نومبر کو اس عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ بطور چیف جسٹس ان کا دور تقریبا ساڑھے 13 ماہ رہا۔ ان کی سربراہی میں پانچ ججوں کی بینچ نے گذشتہ سال نو نومبر کو اجودھیا تنازعہ پر تاریخی فیصلہ دیا تھا۔
First published: Mar 17, 2020 12:34 PM IST