உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ساکیت عدالت میں Qutub minar احاطے میں پوجا کے حق کی عرضی پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ

    Youtube Video

    آج یعنی منگل کو ساکیت کورٹ میں ہندو دیوتاؤں کی بحالی اور قطب مینار احاطے میں پوجا کے حق کی عرضی پر ایک طویل بحث ہوئی۔ ایودھیا سے مندر، مسجد کے ذکر کے ساتھ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ساکیت عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ساکیت عدالت میں آج یعنی منگل کو ہندو دیوتاؤں کی بحالی اور قطب مینار احاطے میں پوجا کے حق کی عرضی پر ایک طویل بحث ہوئی۔ ایودھیا سے مندر، مسجد کے ذکر کے ساتھ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ساکیت عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ قطب مینار میں عبادت کی اجازت دی جائے گی یا نہیں، اب عدالت 9 جون کو فیصلہ سنائے گی۔ ہندو فریق کی جانب سے ہری شنکر جین نے کئی دلائل دیے اور کہا کہ وہ کسی تعمیر کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں، بلکہ صرف پوجا کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ اسی وقت ایس آئی کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے ایڈوکیٹ سبھاش نے اس عرضی کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس پورے معاملے کی سماعت کے دوران عدالت میں کیا ہوا اور کس نے کیا دلائل دیے، آئیے آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں۔

      قطب مینار کیس میں ہندو فریق کی طرف سے دلائل دیتے ہوئے وکیل ہری شنکر جین نے کہا کہ مسلمان حملہ آوروں نے مندروں کو تباہ کر دیا تھا۔ مسجد صرف اسلام کی طاقت دکھانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ مسلم کمیونٹی کے لوگ کبھی قطب مینار پر نماز نہیں پڑھتے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے پاس اس کس ثبوت ہیں کہ قطب مینار 27 مندروں کو گرا کر بنایا گیا ہے۔

      ہری شنکر جین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ان کا جواب بھی طلب کر لیا۔ عدالت نے ان سے پوچھا کہ آپ کس قانونی اختیار کے تحت قطب مینار کمپلیکس میں پوجا کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ جواب میں جین نے مونومنٹ ایکٹ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی قسم کی تعمیر کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔ بس عبادت کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔

      قطب مینار میں پوجا کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ہندو فریق کی عرضی پر ASI کا کورٹ میں جواب

      ام مندر کیس کا بھی دیا حوالہ ۔
      عدالت نے ہری شنکر جین سے یہ بھی پوچھا کہ ہم اس مطالبہ کو کس بنیاد پر بحال کریں؟ جین نے مونومنٹ ایکٹ کے ساتھ رام مندر کیس کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مونومنٹ ایکٹ کے کریکٹر کے مطابق وہاں پوجا کی جانی چاہئے اور پلیس آف ورشپ ایکٹ یہاں لاگو نہیں ہوتا۔ جب عبادت گاہوں کے قانون کی بات ہوئی تو عدالت نے پوچھا کہ اس ایکٹ کا مقصد کیا ہے؟ اس پر ہری شنکر نے کہا کہ میرا مقدمہ ثابت کرنے کے لیے ہمیں ثبوت دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔ مقدمے کو ثبوت دینے کا معقول موقع دینے سے پہلے ہی خارج کر دیا گیا۔


      800 سال پرانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ہری شنکر جین نے کہا کہ یہاں کی قوۃ الاسلام مسجد میں 800 سال سے زیادہ وقت سے نماز نہیں پڑھی گئی۔ اس پر جج نے کہا کہ اگر دیوتا پچھلے 800 سالوں سے بغیر پوجا کے موجود ہے تو رہنے دیں۔ اس پر جین نے کہا کہ وہاں مورتی کا وجود ہے۔ بت تو موجود ہے لیکن اصل سوال پوجا کے حق کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اپیل کنندہ کے بنیادی حقوق سے انکار کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت میرا آئینی حق پامال کیا جا رہا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: