உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آر ایس ایس ہندوستان کو مذہبی اور آمریت پسند ملک بنانا چاہتا ہے : راہل

    نئی دہلی۔  کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) پر ہندوستان کو مذہبی اور آمریت پسند ملک بنانے کے لئے کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نظریات کو چکناچور کر دے گی۔

    نئی دہلی۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) پر ہندوستان کو مذہبی اور آمریت پسند ملک بنانے کے لئے کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نظریات کو چکناچور کر دے گی۔

    نئی دہلی۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) پر ہندوستان کو مذہبی اور آمریت پسند ملک بنانے کے لئے کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نظریات کو چکناچور کر دے گی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) پر ہندوستان کو مذہبی اور آمریت پسند ملک بنانے کے لئے کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نظریات کو چکناچور کر دے گی۔


      مسٹر گاندھی نے یہاں راجیو گاندھی سماجی مطالعہ کے ادارے کے زیر اہتمام پنڈت جواہر لال نہرو کے 125 ویں جنم دن کے موقع پر "آزادی کے بغیر امن نہیں" کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ قومی کانفرنس کی اختتامی تقریب کو خطاب کر تے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں خوف کا ماحول ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ جب آئین کی نظریات اور اقدار کی کھل کر مخالفت کرنے والی ایک فاشسٹ تنظیم نے ملک میں فیصلہ کن طاقت حاصل کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا مقصد ہندوستان کو ایک مذہبی اور آمریت پسند ملک بنانا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے موجودہ اعتدال پسند، سیکولر، سماجی ا ورجمہوری نظام کو ختم کرنا ضروری ہے۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران یہ دیکھا گیا کہ وہ اقتدار کی طاقت کے زور پر ان اقدار کو ختم کرنے پر آمادہ ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی چیلنج ہے جس کا تمام ہندوستانی مقابلہ کر رہے ہیں۔


      مسٹر گاندھی نے پنڈت نہرو کی کتاب 'بھارت ایک کھوج' کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ آزادی کے بغیر امن ممکن نہیں ہوگا۔ امن اور آزادی کا ان کا یہ فلسفہ جیل میں رہنے کے دوران آیا تھا جو کروڑوں ہندوستانیوں کے دل کی آواز تھی۔ انہوں نے کہا کہ پنڈت نہرو نے ہندوستان کے خاتمے کے اثر کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان نے سوال کرنے بند کر دیئے تھے۔ ہندوستان نے خود کو ایک دائرے میں سمیٹ لیا جبکہ دنیا بھر میں بہت تبدیلی ہو رہی تھی۔ اس لئے پنڈت نہرو زندگی بھر ہمارے یقین پر سوال کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پنڈت نہرو بہت ہی روادار شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے گیتا، قرآن اور بائبل تینوں میں سچائی کو دیکھا۔ انہوں نے ثقافتوں اور زبانوں کے تلون میں خوبصورتی دیکھی۔ ان کے مطابق ہندوستان کی رواداری نے ہی اسے عظیم بنایا ہے۔ دنیا کو دینے کے لئے ہمارے پاس صرف رواداری ہی ہے۔


      کانگریس لیڈر نے کہا کہ آج مختلف نظریات پر چلنے والے لوگوں کو جس ایک بات نے متحد کیا ہے، وہ ہماری آزادی، حقوق اور ہمارے جمہوری نظام پر حملہ ہے۔ آج امن اور آزادی دونوں ہی بری طرح سے خطرے میں ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں فرقہ وارانہ اور ذات پات پر مبنی تشدد کے شکار لوگوں اور دانشوروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اظہار رائے اور بولنے، مذہب اور عبادت، نظریات اور اعتقاد کی آزادی پر تمام طرح کے حملوں کی مذمت کرتی ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ وہ آزادی اور حقوق کے تحفظ کے لئے متحد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک خود مختار، سیکولر، سوشلسٹ اور جمہوری ملک ہے۔ یہاں سب کو نظریات اور اظہار رائے کی آزادی ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں اختلافات کو طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس ملک میں روز اول سے ہی سچائی اور عدم تشدد کے اصول سے ترغیب ملتی رہی ہے۔ پنڈت نہرو کا خیال تھا کہ ہر ہندوستانی چاہے وہ کتنا ہی غریب اور کمزور کیوں نہ ہو، اسے اپنے ماحول کی سمجھ ہونی چاہیے اور یہ سمجھ تجربے سے آتی ہے۔


      انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سچائی پر اجارہ داری کا دعوی نہیں کر سکتا.۔ ہرہندوستانی کا ایک الگ نظریہ ہے ۔علم کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ وہ مسلسل فیض پہنچاتا رہتاہے اور اس کی ہر وقت اس شخص کے ذریعہ مسلسل آزمائش ہوتی ہے اور سوال ہوتے ہیں۔ جب سنگھ اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ نہ صرف عدم رواداری ہوتی ہے بلکہ ہندوستانی عوام کی توہین ہوتی ہے۔


      مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے۔ کوئی مہمان بھی آئے تو اس کا بھی اس کا رشتہ ہو جاتا ہے۔ اس پر سوال کھڑے کرنا کہ کون ہندوستانی ہے اور کون نہیں، انتہائی خراب اور خطرناک بات ہے اور ہم سب اسے مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے سنگھ کے سربراہ مسٹر موہن بھاگوت کی دسہرہ کے موقع پر کی گئی تقریر کو دوردرشن پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کئے جانے کی بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ان کی تنگ نظری والی ذہنیت کو برداشت کرنے کے لئے مجبور کئے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک بھر میں جگہ جگہ کانگریس کے کارکنوں اور لیڈروں سے ملاقات کر رہے ہیں اور ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس بات چیت سے ان کا یہ یقین اور پختہ ہوگیا ہے کہ سیکولرزم کانگریس کے خون میں شامل ہے اور سب کا احترام کرنا اس کے ڈی این اے میں ہے۔سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس دو روزہ کانفرنس کا افتتاح کل کیا تھا۔ مختلف نظریات پر یقین رکھنے والے ماہرین تعلیم، فنکاروں، سماجی خدمت گاروں اور دانشوروں نے اس میں حصہ لیا اور ملک میں سیکولرزم کو بچانے کے لئے کھل کر لڑائی لڑنے کا اعلان کیا۔

      First published: