ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

راہل گاندھی نے کہا : میں دنیا میں کسی سے نہیں ڈروں گا ، نا انصافی کے سامنے نہیں جھکوں گا

ادھر یوپی پولیس نے راہل اور پرینکا گاندھی سمیت کانگریس کے 200 سے زیادہ لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے ۔ ایف آئی آر میں ان لوگوں کے خلاف کئی سنگین دفعات لگائی گئی ہیں ۔

  • Share this:
راہل گاندھی نے کہا : میں دنیا میں کسی سے نہیں ڈروں گا ، نا انصافی کے سامنے نہیں جھکوں گا
راہل گاندھی نے کہا : میں دنیا میں کسی سے نہیں ڈروں گا ، نا انصافی کے سامنے نہیں جھکوں گا

ہاتھرس واقعہ کو لے کر جعمرات کو بڑا سیاسی ڈراما دیکھنے کو ملا تھا ۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کی قیادت میں ہزاروں کانگریس کارکنان ہاتھرس کیلئے روانہ ہوئے ، لیکن گریٹر نوئیڈا سے آگے نہیں بڑھ سکے ۔ انہیں وہیں پر حراست میں لے لیا گیا ، لیکن بعد میں چھوڑ دیا گیا ۔ اب کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے گاندھی جینتی پر ٹویٹ کرکے مرکزی حکومت پر نشانہ سادھا ہے ۔


راہل گاندھی نے کہا کہ میں دنیا میں کسی سے نہیں ڈروں گا اور ناانصافی کے سامنے نہیں جھکوں گا ۔ راہل گاندھی نے ٹویٹر پر لکھا : میں دنیا میں کسی سے نہیں ڈروں گا ۔۔۔ میں کسی کی انصافی کے سامنے جھکوں گا نہیں ، میں جھوٹ کو سچ سے جیتوں اور جھوٹ کی مخالفت کرتے ہوئے میں سبھی تکالیف برداشت کرسکوں ۔ گاندھی جینتی کی نیک خواہشات




راہل اور پرینکا سمیت 200 سے زائد کانگریسی لیڈروں کے خلاف کیس درج

ادھر یوپی پولیس نے راہل اور پرینکا گاندھی سمیت کانگریس کے 200 سے زیادہ لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے ۔ ایف آئی آر میں ان لوگوں کے خلاف کئی سنگین دفعات لگائی گئی ہیں ۔ یہ ایف آئی آر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے اور وبا کے دوران عام لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں آئی پی سی کی دفعہ 188 ، دفعہ 129 اور 270 کے تحت دراج کی گئی ہے ۔

47 خاتون وکلا نے سی جے آئی کو لکھا خط

ادھر ہاتھرس واقعہ کے سلسلے میں 47 خاتون وکلا کے ایک گروپ نے ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) کو خط لکھ کر معاملہ میں ہائی کورٹ کی نگرانی میں جانچ اور ٹرائل کے احکامات دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ خط میں خاتون وکلا نے اس معاملہ میں حقائق اور شواہد میں ہیر پھیر کرنے کی کوشش کرنے والے سبھی قصوروار پولیس اہلکاروں ، انتظامی افسران اور طبی افسران کے خلاف فوری جانچ اور معطلی یا کوئی سزا دینے والی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

وکیلوں نے الزام لگایا کہ بھلے ہی سبھی چار ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے ، لیکن جس طرح سے پولیس افسران نے متاثرہ کے کنبے کے ساتھ خاص کر اس کی بے وقت موت کے بعد سلوک کیا ہے وہ باعث تشویش ہے ۔ خاتون وکلا نے سی جے آئی اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملہ کی ہائی کورٹ کی نگرانی میں جانچ اور ٹرائل کا حکم دیں ۔ تاکہ قانون کی حکمرانی میں ملک کے شہریوں خاص کر خواتین کا اعتماد قائم رہ سکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 02, 2020 09:03 AM IST