உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دلتوں پر ہو رہے مظالم کے خلاف راہل گاندھی کا راج گھاٹ پر انشن جاری

    پورے ہندوستان میں جاری کانگریس کا یہ انشن دلتوں کی حمایت میں ہے۔

    پورے ہندوستان میں جاری کانگریس کا یہ انشن دلتوں کی حمایت میں ہے۔

    ملک بھر میں دلتوں پر ہورہے مظالم کے واقعات اور مودی حکومت کی 'ناکامی' کے خلاف کانگریس پارٹی کے جاری ملک گیرانشن کے تحت کانگریس صدر راہل گاندھی راج گھاٹ پہنچ کر انشن پر بیٹھ چکے ہیں۔

    • Share this:

      نئی دہلی۔ دلتوں پر مظالم کے خلاف اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے کانگریس کا آج پورے ملک میں انشن جاری ہے۔ دارالحکومت کے راج گھاٹ پر واقع گاندھی سمادھی کے سامنے صبح سے کانگریس کے سینئر لیڈران اور کارکنان بڑی تعداد میں انشن پر بیٹھے ہیں۔ اس موقع پر دہلی ریاستی صدر اجے ماکن اور دیگر سینئر رہنما بھی موجود ہیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی راج گھاٹ پہنچ کر انشن پر بیٹھ چکے ہیں۔ پورے ہندوستان میں جاری کانگریس کا یہ انشن دلتوں کی حمایت میں ہے۔ کانگریس نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں كو ملک بھر میں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر آج بھوک ہڑتال کرنے کو کہا ہے۔


      کانگریس جنرل سکریٹری اشوک گہلوت نے پارٹی کے تمام صوبائی صدور، جنرل سکریٹریوں اور پارٹی اراکین کے رہنماؤں کے بھیجے گئے ہدایت نامہ میں کہا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بچانے اور بڑھانے کے لئے تمام ریاستوں اور اضلاع میں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر بھوک ہڑتال کیا جائے۔ گہلوت نے دو اپریل کو بھارت بند کے دوران ہونے والی گڑبڑیوں اور تشدد کو بدبختانہ قراردیا ۔ کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکز اور ریاست کی حکومتوں نے تشدد روکنے اور دلتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اطلاعات کے مطابق ریاستوں میں صوبائی ہیڈکوارٹر اور اضلاع میں انشن کئے جا رہے ہیں۔

      گزشتہ دنوں ملک میں دلتوں کے خلاف مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ وہیں، ایس سی / ایس ٹی ایکٹ میں تبدیلی کو لے کر بھی عدم اطمینان ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ ہونے کے خلاف بھی اپنی آواز بلند کرے گی۔ اس کے لئے کانگریس نے 9 اپریل کو پورے ملک میں بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔


      بتا دیں کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ ہنگامہ کی نذر ہو گیا۔ سال 2000 کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پارلیمنٹ میں سب سے کم کام ہوا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی ٹھپ ہونے سے کئی بل پیش نہیں ہو سکے اور وہ زیر التواء رہ گئے۔



       نیوز ایجنسی یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ

      First published: