ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

راہل گاندھی کا مرکزی حکومت پر سخت حملہ، کہا۔ یکطرفہ فیصلہ کرنا تباہ کن ہے

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر یکطرفہ فیصلہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن بھی اسی طرح سخت فیصلہ تھا جس نے لوگوں کی ذہنیت تبدیل کی جس سے خوف کا ماحول پیدا ہوا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 12, 2020 01:01 PM IST
  • Share this:
راہل گاندھی کا مرکزی حکومت پر سخت حملہ، کہا۔ یکطرفہ فیصلہ کرنا تباہ کن ہے
راہل گاندھی کا مرکزی حکومت پر سخت حملہ، کہا۔ یکطرفہ فیصلہ کرنا تباہ کن ہے

نئی دہلی۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر یکطرفہ فیصلہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن بھی اسی طرح سخت فیصلہ تھا جس نے لوگوں کی ذہنیت تبدیل کی جس سے خوف کا ماحول پیدا ہوا۔ گاندھی نے امریکی ڈپلومیٹ اور ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے پروفیسر نکولس برنس سے جمعہ کے روز بات چیت میں کہا کہ مودی حکومت نے جس طرح سے لاک ڈاؤن نافذ کیا، اس کے سبب لوگوں کی ذہبیت میں تبدیلی آئی اور کافی ڈر کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ یہ وائرس بہت خطرناک ہے اور وائرس کے ساتھ ہی اس ڈر کو بھی آہستہ آہستہ دور کیا جانا چاہیے۔


انہوں نے کہا ’’ڈر کا یہی اثر کچھ دنوں پہلے میں ہندوستان کے ایک بڑے کاروباری میں دیکھا‘‘۔ بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ ان کے دوستوں نے مجھ سے بات کرنے کے لئے انہیں منع کیا اور کہا کہ مجھ سے بات کرنا ان کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ اس کا مطلب ڈر کا ماحول تو ہے۔ آپ یکطرفہ فیصلہ لیتے ہیں، دنیا میں سب سے بڑا اور سخت لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہیں۔ آپ کے پاس لاکھوں یومیہ مزدور ہیں جو ہزاروں کلو میٹر پیدل چل کر واپس گئے ہیں۔ تو یہ یکطرفہ قیادت ہے جہاں آپ آتے ہیں، کچھ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ یہ بات تباہ کن ہے۔ یہ ہر جگہ ہے اور ہم اس سے نبرد آزما ہیں‘‘



کورونا سے بچاؤ کے لئے احتیاط کے سلسلے میں کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’میں کسی سے ہاتھ تو نہیں ملا رہا لیکن ماسک اور حفاظت کے ساتھ لوگوں سے ملتا ہوں کیونکہ عام جلسے ممکن نہیں ہیں اور ہندوستان میں عوامی جلسے سیاست کے لئے سنجیونی ہیں۔ سوشل میڈیا اور زوم کے ذریعہ کافی بات چیت ہو رہی ہے۔ اس کے سبب سیاسی میدان میں کچھ عادتیں یقینی طور پر بدلنے جارہی ہیں‘‘۔ راہل گاندھی نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ کورونا کے سبب لوگوں میں یکجہتی کا جذبہ بڑھ رہا ہے اور یوروپ میں بھی ایسا ہی ہے۔ جرمنی، اٹلی، برطانیہ کے درمیان وہی ہورہا ہے جو باقی دنیا میں ہے۔ دنیا میں کچھ ایسا ہورہا ہے جہاں لوگ خود میں متحد ہوتے جارہے ہیں، سمجھ داری پیدا ہوتی جارہی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ کووڈ۔ 19 بحران کے سبب اس اثر میں تیزی آئی ہے۔

انہوں نے کہا ’’ میں اپنے ملک کے ڈی این اے کو سمجھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ ہزاروں برسوں سے ہمارے ملک کا ڈی این اے ایک طرح کا ہے اور اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ ہاں ہم اس خراب دور سے گزر رہے ہیں۔ کووڈ ایک بھیانک بحران ہے لیکن میں کووڈ کے بعد نئے خیالات اور نئے طریقوں کو ابھرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ میں لوگوں کو پہلے کے مقابلے ایک دوسرے کا زیادہ تعاون کرتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں۔ اب انہیں احساس ہوا کہ اصل میں تنظیم ہونے کے فائدے بہت ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے فائدے ہیں اس لئے وہ ایسا کر رہے ہیں‘‘۔
First published: Jun 12, 2020 01:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading