உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Raisina Dialogue: آج ہندوستان ساتویں سالانہ جیو پولیٹکس کانفرنس کی کرے گا میزبانی، یہ موضوع ہوگا اہم

    وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو)

    وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو)

    مذکورہ سالانہ کانفرنس کا اہتمام ہندوستان کی وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر کیا ہے، جو کہ نئی دہلی میں ایک تھنک ٹینک ہے۔ اس کا نام دارالحکومت کے رائسینا ہلز علاقے کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں ہندوستانی حکومت کے اہم ادارے قائم ہیں۔

    • Share this:
      آج 25 اپریل 2022 سے ہندوستان نئی دہلی میں ساتویں سالانہ جیو پولیٹکس اور جیو اکنامکس کانفرنس رائسینا ڈائیلاگ (Raisina Dialogue) کا انعقاد کرے گا۔ رائسینا ڈائیلاگ کے تحت پالیسی سازوں، سفارت کاروں، ماہرین اور سابق رہنماؤں کو تین دن کی بات چیت کے لیے اکٹھا کیا جائے گا۔ جب کہ دنیا یوکرین میں جنگ کے سیاسی، انسانی اور اقتصادی نتائج سے دوچار ہے۔

      وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ اس سال کی کانفرنس کا عنوان 'Terra Nova: Impassioned, Impatient, and Imperilled' ہے اور اس میں چھ اہم موضوعات پر بات کی جائے گی۔ جس میں جمہوریت، کثیرالجہتی، صحت، ٹیکنالوجی کی جنگیں، قابل تجدید توانائی اور ایشیا پیسیفک خطہ شامل ہیں۔ مذکورہ سالانہ کانفرنس کا اہتمام ہندوستان کی وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر کیا ہے، جو کہ نئی دہلی میں ایک تھنک ٹینک ہے۔ اس کا نام دارالحکومت کے رائسینا ہلز علاقے کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں ہندوستانی حکومت کے اہم ادارے قائم ہیں۔

      اس سال کی تقریب کورونا وائرس وبا کی وجہ سے پچھلے دو سال سے آن لائن منعقد ہونے کے بعد ورچوئیل طور پر ہو رہی ہے۔ اس تقریب میں 90 ممالک کے 200 مقررین کے ساتھ 100 سے زائد سیشنز ہوں گے۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی (Indian Prime Minister Narendra Modi) اجتماع کا افتتاح کریں گے، جب کہ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین مہمان خصوصی ہوں گی اور افتتاحی اجلاس سے خطاب کریں گی۔

      وان ڈیر لیین سے توقع ہے کہ وہ یوکرین میں جاری بحران (Crisis in Ukraine) کے دوران جنوبی ایشیائی قوم اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کریں گی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر عبداللہ شاہد بھی پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام میں افتتاحی اجلاس سے خطاب کریں گے۔

      باغچی نے کہا کہ برلن اور واشنگٹن میں ضمنی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا اور اس اہم کانفرنس کے موقع پر رائسینا ینگ فیلو پروگرام بھی منعقد کیا جائے گا۔ سویڈن، کینیڈا اور آسٹریلیا کے سابق وزرائے اعظم کارل بلڈٹ، اسٹیفن ہارپر اور انتھونی ایبٹ اس تقریب میں شرکت کرنے والوں میں شامل ہیں۔

      مزید پڑھیں: Jobs in Telangana: تلنگانہ میں 80 ہزار نئی نوکریوں کا اعلان، لیکن پہلے سے وعدہ شدہ اردو کی 558 ملازمتیں ہنوز خالی!

      ارجنٹینا، آرمینیا، آسٹریلیا، گیانا، نائجیریا، ناروے، لتھوانیا، لکسمبرگ، مڈغاسکر، نیدرلینڈ، فلپائن، پولینڈ، پرتگال اور سلووینیا کے وزرائے خارجہ بھی شرکت کریں گے اور اپنے ہندوستانی ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔

      وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے اپنی اہمیت منوائی ہے۔ مذکورہ ہائی پروفائل کانفرنس میں عالمی سیاست، سلامتی اور معاشی اعتبار سے نئی دہلی اپنا ایجنڈا طے کرئے گی۔ حالیہ ہفتوں میں ہندوستان نے یوکرین پر روس کی جنگ کی واضح مذمت کرنے سے انکار کرکے اپنی اسٹریٹجک خود مختاری کو واضح کیا ہے۔ اس حملے نے ماسکو کے خلاف عالمی مذمت اور وسیع پابندیوں کو جنم دیا ہے۔

      مزید پڑھیں: TMREIS: تلنگانہ اقلیتی رہائشی اسکول میں داخلوں کی آخری تاریخ 20 اپریل، 9 مئی سے امتحانات

      ہندوستان نے امریکہ کی حمایت یافتہ قراردادوں پر ووٹنگ سے پرہیز کیا ہے جس میں اقوام متحدہ میں روس کی مذمت کی گئی ہے، جس سے اس کے مغربی اتحادیوں سے مایوسی پھیل رہی ہے بلکہ نئی دہلی کو اس کے سب سے بڑے ہتھیار فراہم کرنے والے ماسکو کے ساتھ سرد جنگ کے دور کی شراکت داری سے دور کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: