ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

راج ببر کا پی ایم مودی پر طنز، کہا : ملک میں کوئی نہیں بجاتا تالی تو بیرون ملک جاکر بجواتے ہیں

ببر نے کہا وہ یہاں کسی کو چیلنج کرنے نہیں بلکہ ایک مشن کے لئے آئے ہیں اور مشن مکمل ہوگا اور 2017 میں کانگریس کی حکومت بنے گی

  • UNI
  • Last Updated: Jul 17, 2016 10:58 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
راج ببر کا پی ایم مودی پر طنز، کہا : ملک میں کوئی نہیں بجاتا تالی تو بیرون ملک جاکر بجواتے ہیں
ببر نے کہا وہ یہاں کسی کو چیلنج کرنے نہیں بلکہ ایک مشن کے لئے آئے ہیں اور مشن مکمل ہوگا اور 2017 میں کانگریس کی حکومت بنے گی

لکھنؤ : اترپردیش کانگریس کمیٹی کے نومنتخب صدر راج ببر نے آج غیركانگریسي جماعتوں پر سخت حملہ کرتے ہوئے آج دعوی کیا کہ پارٹی اپنا مشن پورا کرتے ہوئے 2017 میں حکومت بنائےگي۔  صدر بننے کے بعد پہلی بار یہاں آئے مسٹر ببر نے صحافیوں سے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اتر پردیش کو برباد کر دیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں کانگریس حکومت بنائےگي اور اتر پردیش کو ترقی کے راستے پر لے جائے گی۔


وزیر اعلی کی حیثیت سے کانگریس کی امیدوار کی حیثیت سے آگے کی گئیں دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت کی موجودگی میں مسٹر ببر نے کہا وہ یہاں کسی کو چیلنج کرنے نہیں بلکہ ایک مشن کے لئے آئے ہیں اور مشن مکمل ہوگا اور 2017 میں کانگریس کی حکومت بنے گی۔


ایک سوال کے جواب میں شیلا دکشت نے کہا کہ اتر پردیش اور بہار کے لوگوں کے بارے میں دیئے گئے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ ان کے جواب دینے میں اٹكنے پر مائیک راج ببر نے سنبھال لیا اور ان کی طرف سے خود بولنے لگے۔ دہلی کی سابق وزیر اعلی سے پوچھا گیا تھا کہ وہ بہار اور اتر پردیش کے لوگوں کی وجہ سے دہلی میں مسائل اور جرائم بڑھنے متعلق دیئے گئے بیان پر کیا اب بھی قائم ہیں۔


پارٹی کے ریاستی صدر نے کہا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے انہیں جو ذمہ داری سونپی ہے اس کی اس بخوبی ادا کریں گے۔ ان کے ساتھ تجربہ کار اورنرم گفتار شیلا دکشت ہیں۔ ان کے تجربے کا فائدہ اٹھاکر کانگریس کارکنوں میں جوش بھر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کے عوام کا’آشیرواد‘ لے کر 27 سال کے بدعنوان حکومت انتظامیہ سے اترپردیش کو آزاد کرایا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ صوبے میں 27 سال سے کانگریس باہر ہے۔

مسٹر ببر نے کہا کہ ایک مخصوص ذات کی پارٹيو ں نے سیاسی داو پیچ کا استعمال کرکے اقتدار میں آ رہی ہیں اور اس کے بعد جم کر لوٹ مار کر رہی ہیں۔ ایس پی سربراہ نے خود کہا ہے کہ وہ لوٹ کو روکنے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ وزیر اور پارٹی لیڈر بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ سماج وادی پارٹی سربراہ لوٹ روکنے سے قاصر ہیں۔ کانگریس اس پر لگام لگائےگي۔

مسٹر ببر نے کہا کہ وہ سوشلسٹ موومنٹ سے متاثر ہو کر سیاست میں آئے، لیکن جب انہوں نے کوئی سوشلزم نہیں دیکھا تو آہستہ سے وہاں سے نکل آئے اور مہاتما گاندھی جی کو ماننے والی کانگریس پارٹی میں آ گئے۔ سوشلسٹ پارٹی اب صرف ‘ایس پی‘ بن کر رہ گئی ہے۔

بی ایس پی کے بانی کانشی رام کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانشی رام نے دلتوں اور نظرانداز لوگوں کو جمع کرکے ان کے حقوق کی لڑائی لڑي لیکن اقتدار میں آنے پر بی ایس پی کی مٹھی ڈھیلی پڑ گئی اور لوگ پارٹی سے نکل کر اپنے لیڈر پر ہی لوٹ کا الزام لگا رہے ہیں۔ انہیں دولت کی بیٹی بتا رہے ہیں۔

بی جے پی کے صدر امت شاہ کا نام لئے بغیر مسٹر ببر نے کہا کہ ریاست بدر کر دیے جانے والا شخص پارٹی کا سربراہ بنا بیٹھا ہے۔ اس کا کام محض اتنا ہے کہ وہ ان چہروں کو ڈھونڈے جو سماج کو تقسیم کرسکے۔ بی جے پی نے سماج کو بانٹنے کا کام کیا ہے لیکن کانگریس سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے۔ پی ایم مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے راج ببر نے کہا کہ ملک میں کوئی نہیں بجاتا تالی تو بیرون ملک جاکر بجواتے ہیں ۔

مسٹر ببر نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس کوئی جادو کی چھڑي نہیں ہے جس سے وہ پردیش میں کانگریس کو ایک دم سے کھڑی کر دیں گے ، لیکن انہیں یقین ہے کہ پریشان عوام کانگریس کے ساتھ آئیں گے اور 2017 میں کانگریس کی حکومت بنائےگي۔ اس سے پہلے کانگریس کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے مسٹر راج ببر نے کہا کہ عوام کے درمیان جائیں اور اس کے مسائل کو اٹھائیں۔ عوام کے مسائل کو اٹھانے پر وہ کارکنوں سے جڑیں گے اور کانگریس مضبوط ہوگی۔

سی ایم امیدوار شیلا دکشت نے کہا کہ اترپردیش بڑا لیکن پچھڑا ہے۔ وہ جلد ہی پردیش کا دورہ شروع کریں گی۔ خواتین سے خاص طور پر ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 1989 میں نارائن دت تیواری کی حکومت جانے کے بعد اس ریاست میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ یہاں امتیازی سلوک ختم کرنا ہے۔

پردیش کانگریس نائب صدر اور اپنے بیانات کے لئے اکثر شہ سرخیوں میں رہنے والے عمران مسعود نے کہا کہ گجرات کے فسادات کے لئے جب وہ نریندر مودی کو نہیں معاف کیا گیا تو 2013 میں ہونے والے مظفرنگر فسادات کے لئے وزیر اعلی اکھلیش یادو کو کس طرح معاف کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ مسٹر مودی سے ان کے نظریاتی اختلافات ہیں۔
First published: Jul 17, 2016 10:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading