உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    31 سال بعد جیل سے رہا ہوگا سابق پی ایم Rajiv Gandhi کا قاتل، سپریم کورٹ نے دیا اے جی پیراریوالن کی رہائی کا حکم

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی  Rajiv Gandhi  کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے اے جی پیراریولن کی رہائی  release of AG Perarivalan کا حکم دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی Rajiv Gandhi کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے اے جی پیراریولن کی رہائی release of AG Perarivalan کا حکم دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی Rajiv Gandhi کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے اے جی پیراریولن کی رہائی release of AG Perarivalan کا حکم دیا ہے۔

    • Share this:
      Rajiv Gandhi Assassination Case: سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی Rajiv Gandhi کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے اے جی پیراریولن کی رہائی release of AG Perarivalan کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ گورنر نے مجرم کی رحم کی درخواست نمٹانے میں مزید وقت لیا۔ پیراریولن نے کہا تھا کہ تمل ناڈو حکومت نے ان کی رہائی کا فیصلہ لیا، لیکن گورنر نے فائل کو طویل عرصے تک اپنے پاس رکھنے کے بعد اسے صدر کے پاس بھیج دیا۔ یہ آئین کے خلاف ہے۔

      اس سے قبل، 11 مئی کو ہوئی سماعت میں مرکز نے اے جی پیراریولن کی رحم کی درخواست صدر کے پاس بھیجنے کے تمل ناڈو کے گورنر کے فیصلے کا سپریم کورٹ میں دفاع کیا تھا۔

      ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) کے ایم نٹراج نے جسٹس ایل ناگیشورا راؤ، بی آر گاوائی اور جسٹس اے ایس بوپنا کی بنچ کو بتایا تھا کہ مرکزی قانون کے تحت سزا یافتہ شخص کی معافی، معافی اور رحم کی درخواست پر صرف صدر ہی فیصلہ کرسکتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھئے: Heavy Rain:کچھ گھنٹےکی بارش سےبےحال ہوابنگلورو،سڑکیں بنی تالاب، کئی جگی سیلاب جیسی صورتحال

      بنچ نے مرکز سے سوال کیا تھا کہ اگر اس دلیل کو قبول کر لیا جائے تو گورنروں کی طرف سے اب تک دی گئی چھوٹ باطل ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر گورنر پیراریولن کے معاملے پر ریاستی کابینہ کی سفارش کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہیں دوبارہ غور کے لیے فائل کو کابینہ کو واپس بھیج دینا چاہیے تھا۔

      سپریم کورٹ نے اس معاملے کی دو گھنٹے تک سماعت کی اور پیراریولن کی طرف سے دائر درخواست پر اے ایس جی، تمل ناڈو حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل راکیش دویدی اور عرضی گزار کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل گوپال سنکرانارائنن کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیاتھا۔ تحریری دلائل دو دن میں داخل کرنے کا کہا گیا تھا

      مزید پڑھیں:  ترکی کیوں چاہتا ہے کہ Russia-Ukraine کے درمیان ایک فعال ثالث کا کردار ادا کرے؟

      سپریم کورٹ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ تمل ناڈو کے گورنر پیراریولن کی رہائی پر ریاستی کابینہ کے فیصلے کے پابند ہیں، اور صدر کے پاس رحم کی درخواست بھیجنے کے ان کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین کے خلاف کسی بھی چیز سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے  ہیں۔ سپریم کورٹ نے پیراریولن کو 9 مارچ کو ضمانت دے دی تھی۔۔

      عدالت ان درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے جس میں پیراریولن نے ملٹی ڈسپلنری مانیٹرنگ ایجنسی (MDMA) کی تحقیقات مکمل ہونے تک اس کیس میں اپنی عمر قید کی سزا کو معطل کرنے کی مانگ کی تھی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: