ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

 رام بھکت نظر آنے کی کوشش میں جٹی کانگریس، راجیو گاندھی کو دیا رام مندر کا کریڈٹ

کانگریس کا کہنا ہے کہ راجیو گاندھی نے سال 1985 میں مندر کا تالا کھلوا کر اس کی شروعات کی تھی اور سال 1989 میں انہوں نے ہی اس کا شلانیاس کروایا۔

  • Share this:
 رام بھکت نظر آنے کی کوشش میں جٹی کانگریس، راجیو گاندھی کو دیا رام مندر کا کریڈٹ
سونیا گاندھی، راہل گاندھی کی فائل فوٹو

ملک کی سب سے پرانی پارٹی کانگریس (Congress)  ایودھیا رام مندر کے مسئلہ پر اپنے موقف میں اصلاح کی کوشش کرتی نظر آ رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ بھومی پوجن (bhumi pujan) پر کانگریس بھی خود کو رام کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس اس کوشش میں ہے کہ وہ کسی طرح سے رام بھکت نظر آ سکے۔ پرینکا گاندھی (Priyanka gandhi) سے لے کر کمل ناتھ اور منیش تیواری تک سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی (Rajiv gandhi) کو رام مندر کا کریڈٹ دینے کی کوشش میں مصروف ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ راجیو گاندھی نے سال 1985 میں مندر کا تالا کھلوا کر اس کی شروعات کی تھی اور سال 1989 میں انہوں نے ہی اس کا شلانیاس کروایا۔ راجیو گاندھی کی وجہ سے ہی رام مندر کا خواب آج پورا ہو رہا ہے۔


حالانکہ، کانگریس کے لئے اپنے موقف سے یوٹرن لینا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ نیوز 18 میں معروف مصنف اور سیاسی تجزیہ کار رشید قدوائی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ایودھیا کے مسئلہ پر دہائیوں تک راجیو گاندھی، پی وی نرسمہا راو، سیتا رام کیسری اور سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس خاموش تماشائی بنی رہی۔ رام مندر کے مسئلہ پر پارٹی نے اپنے سبھی سیاسی قراردادوں کو مسلسل یہی دہرایا کہ وہ عدالت کے فیصلے پر عمل کرے گی اور پر امن طریقے سے اس مسئلہ کے حل کے حق میں ہے۔ لیکن ان کی اس دلیل پر اقلیتی برادری کو چھوڑ کر کسی اور نے کوئی توجہ نہیں دی۔


مضمون میں لکھا گیا ہے کہ راہل گاندھی دسمبر 2017 سے لے کر مئی 2019 تک کانگریس کے صدر رہے۔ لیکن اس مسئلہ پر وہ اپنے والد کے موقف پر چل نہیں پائے۔ سال 1989 میں راجیو گاندھی نے وزیر اعظم رہتے ہوئے ’ رام راجیہ‘ کا وعدہ کر ایودھیا میں سریو ندی کے کنارے سے اپنی لوک سبھا مہم کا آغاز کیا تھا۔ راجیو گاندھی اور ان کے وزیر داخلہ رہے بوٹا سنگھ نے وہاں شلانیاس بھی کیا تھا۔ حالانکہ، راجیو گاندھی کے اس فیصلے کی کافی تنقید ہوئی تھی۔ بی جے پی اور وشو ہندو پریشد نے اسے ووٹ ہتھیانے کا ہتھکنڈا بتایا تو وہیں، میڈیا، لبرلس، سماج وادی اور بی جے پی کے نظریہ کی مخالفت کرنے والی پارٹیوں نے اسے ہندو کارڈ کھیلنے کی کوشش بتایا۔


مضمون کے مطابق، سابق وزیر اعظم نرسمہا راو نے اپنی کتاب ’ ایودھیا۔ 06 دسمبر‘ میں راجیو گاندھی کے ذریعہ شلانیاس کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھائے۔ وہیں، بابری مسجد کا ڈھانچہ گرانے میں خود کے ملوث ہونے کو بے بنیاد بتایا اور متنازعہ ڈھانچہ گرانے کا الزام بی جے پی اور وشو ہندو پریشد پر لگایا۔

لیکن اب کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ بھگوان رام سب کے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے بھومی پوجن پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ رام سب میں ہیں،رام سب کے ساتھ ہیں ۔ بھگوان رام اور ماں سیتا کے پیغام اور ان کی مہربانی کے ساتھ رام للا کے مندر کا بھومی پوجن کا پروگرام قومی اتحاد،بھائی چارے اور ثقافت کے انضمام کا موقع بنے۔جے سیارام۔‘ انہوں نے بھگوان رام کے کردار کو اتحاد کا ذریعہ بتایا اور کہا کہ دنیا اور ہندوستانی جزائر کی ثقافت میں رامائن کی گہری چھاپ ہے۔ بھگوان رام ،ماتا سیتا اور رامائن کی کہانی ہزاروں برسوں سے ہندوستانی ثقافت اور مذہبی یادگاروں میں کرن کی طرح روشن ہے‘۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 05, 2020 06:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading