உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات خود داری کی قیمت پر نہیں : راجناتھ سنگھ

    وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ: فائل فوٹو۔

    وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ: فائل فوٹو۔

    نئی دہلی : وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ حکومت پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے لیکن ایسا ملک کے وقار اور خود داری کی قیمت پر ہرگز نہیں ہو سکتا۔ مسٹر سنگھ نے پٹھان کوٹ ائیر بیس پر دہشت گردانہ حملے سے پیدا صورتحال پر لوک سبھا میں قاعدہ 193 کے تحت ہوئی بحث کے جواب میں کہا کہ ملک کی سلامتی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کے بارے میں حکومت کی پالیسی کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ہر پڑوسي ملک کے ساتھ حکومت اچھے تعلقات چاہتی ہے لیکن ملک کی اقدار کا احترام اور خود داری کی قیمت پر نہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ حکومت پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے لیکن ایسا ملک کے وقار اور خود داری کی قیمت پر ہرگز نہیں ہو سکتا۔ مسٹر سنگھ نے پٹھان کوٹ ائیر بیس پر دہشت گردانہ حملے سے پیدا صورتحال پر لوک سبھا میں قاعدہ 193 کے تحت ہوئی بحث کے جواب میں کہا کہ ملک کی سلامتی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کے بارے میں حکومت کی پالیسی کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ہر پڑوسي ملک کے ساتھ حکومت اچھے تعلقات چاہتی ہے لیکن ملک کی اقدار کا احترام اور خود داری کی قیمت پر نہیں۔
      ​​وزیر داخلہ نے دہشت گرد انہ حملے سے نمٹنے میں سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان رابطوں کی کمی کے الزامات کو غلط بتایا اور کہا کہ تمام سرکاری ایجنسیوں، فوج اور انٹیلی جنس کے نظام کے درمیان پٹھان کوٹ آپریشن کے دوران زبردست تذبذب صورت حال بنی ہوئی تھی ۔ سیکورٹی چوک کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہر سرکار کی اپنی حکمت عملی اور منصوبہ ہوتا ہے لیکن کوئی بھی حکومت یہ دعوی نہیں کر سکتی اس کا یہ نظام فل پروف ہے۔
      مسٹر سنگھ نے ایوان میں پٹھان کوٹ حملے سے نمٹنے کے سلسلے میں اپوزیشن ارکان کی طرف سے حکومت پر اٹھائے گئے سوال پر کہا کہ حکومت نے ان سوالات اور تجاویز کو مثبت انداز سے لیا ہے کیونکہ ایسے اہم موضوعات پر تیرا میرا جیسی بات نہیں ہونی چاہئے۔ جو بھی تجویز صحیح اور مناسب لگیں گی ان کو اپنانے پر غور کیا جائے گا۔
      دہشت گردانہ حملے کے وقت وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کی جانب سے متضاد بیان دیے جانے کی وجہ سے الجھن پیدا ہونے اور یہ سوال اٹھنے کی آخر ایسی حالات میں کچھ بھی کہنے یا کرنے کا آخری حق کس کے پاس ہوتا ہے وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسی ہنگامی حالات میں آخری فیصلہ لینے کا حق حکومت کے پاس ہی ہوتا ہے۔ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع تمام حکومت کا ہی حصہ ہیں۔ دہشت گرد حملوں کی صورت میں کرائسس مینجمنٹ گروپ، قومی کرائسس مینجمنٹ گروپ اور کابینہ کی سلامتی امور کی کمیٹی مل جل حکمت عملی بناتی ہیں۔
      وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گرد حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی کے لئے حکومت کے فیصلوں پر عمل کرنے کا جہاں سوال اٹھتا ہے تو وہ حق مکمل طور پر فوج کے سربراہ کے پاس ہوتا ہے۔ پٹھان كوٹ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ انهوں نے گرداس پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سلوندر کی اس معاملے میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے سوال پر کہا کہ یہ کام قومی جانچ ایجنسی دیکھ رہی ہے۔ چونکہ جانچ چل رہی ہے اس لئے وہ اس بارے میں تفصیل سے کچھ نہیں بولنا چاہتے ہیں۔
      سرحدوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پٹھان كوٹ حملے کے بعد وہاں پاکستان سے ملحقہ پنجاب کے دریاؤں سے گھرے 12 کلومیٹر کے بالیان سرحدی علاقے میں باڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف) کی ایک اضافی بٹالین تعینات کی گئی ہے۔ سرحد پر روشنی لگانے، رات میں دیکھ سکنے والے آلات فراہم کرنے اور دیگر تکنیکی سہولیات بھی بڑھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔
      یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے دہشت گردوں کے پٹھان کوٹ میں گھسنے کی بات کی جا رہی ہے لیکن اب تک اس کے پختہ ثبوت نہیں ملے ہیں جانچ چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کی حفاظت کو لے کر حکومت پہلے ہی بہت محتاط رہی ہے اور اس کی اس احتیاط کا ہی نتیجہ ہے کہ 2014 میں جہاں تھارپارکرکے دراندازی کی 222 کوشش ہوئی تھی جو 2015 میں کم ہو کر 120 رہ گئی۔ سرحدوں کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے پہلی بار سیکورٹی آڈٹ بھی کرائی جاری ہے۔

      First published: