உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لوٹایا ہوا ایوارڈ واپس لیں فنکار ، حکومت بات کرنے کیلئے تیار ہے : راج ناتھ

    نئی دہلی : عدم برداشت پر لوک سبھا میں چل رہی بحث میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے تیز و تند حملوں کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی جواب دیا ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ رواداری ہمارے ملک کی روایت رہی ہے۔

    نئی دہلی : عدم برداشت پر لوک سبھا میں چل رہی بحث میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے تیز و تند حملوں کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی جواب دیا ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ رواداری ہمارے ملک کی روایت رہی ہے۔

    نئی دہلی : عدم برداشت پر لوک سبھا میں چل رہی بحث میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے تیز و تند حملوں کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی جواب دیا ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ رواداری ہمارے ملک کی روایت رہی ہے۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : عدم برداشت پر لوک سبھا میں چل رہی بحث میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے تیز و تند حملوں کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی جواب دیا ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ رواداری ہمارے ملک کی روایت رہی ہے۔ اس وقت ملک میں عدم برداشت کا مصنوعی ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔


      راج ناتھ نے ایوارڈ واپس کرنے والے تمام فنکاروں سے اپنا ایوارڈ واپس لینے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدم برداشت پر ان سے بات کرنے کیلئے تیار ہے۔


      عدم برداشت کا خیال ملک کے لئے خودکشی کے مترادف ہے۔ ہم ایسے بیانات سے آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ دنیا میں ہندوستان کی شبیہ کو خراب مت کیجئے۔ ایوارڈ واپس لینے والے لوگوں نے لوک سبھا انتخابات سے پہلے ایک بیان جاری کیا تھا ، جس میں کہا گیا کہ مودی کو ملک کی قیادت نہیں دینی چاہئے۔ میں ان لوگوں کے نام نہیں لینا چاہتا۔ یہ لوگ رائے عامہ کا احترام نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہی عدم برداشت ہے؟ مودی کو ملے مینڈیٹ کا احترام کیجیے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کانگریس دوسروں کی بھی سنے۔


      راج ناتھ نے کہا کہ اس ملک میں عدم برداشت کے 3 بڑی واقعات پیش ٓآئے ہیں۔پہلاتقسیم ہند کے وقت پیش آیا ۔ ہماری نظریات سے وابستہ لوگ اس وقت یہ تقسیم نہیں چاہتے تھے۔ ہم متحد ہندوستان چاہتے تھے۔ دوسرابڑا عدم برداشت کا واقعہ ایمرجنسی کے دوران پیش آیا تھا اور اس کے بعد 1984 کے وقت تیسرابڑاعدم برداشت کا واقعہ رونما ہوا۔


      راج ناتھ نے کہا کہ تسلیمہ نسرین پر کس پارٹی کے لوگوں نے حملہ کیا۔ جے پرکاش جی کی آواز دبانے کے لئے ملک پر ایمرجنسی مسلط گئی۔ پریس کی آزادی بھی چھینی گئی۔ تب یہ جماعت کہاں تھی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ رواداری ہندوستان میں ہے۔


      انہوں نے ملک سے کہا کہ میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہاں کی مذہبی ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کی خیر نہیں ہو گی۔ پاکستان ، عراق اور ایران جیسے ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے راج ناتھ نے کہا کہ وہاں آپسی لڑائی ہوتی ہے۔ ان کی حالت دوسرے درجے کی ہو گئی ہے۔ وہیں ہندوستان میں ہر مذاہب کے لوگ خوشگوار ماحول میں رہ رہے ہیں۔

      First published: