ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

' بھگوان رام بھی کرتے تھے سیاست،ان کا مقصد "رام راجیہ"بنانا تھا:سیاست پر بولے راجناتھ '

وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سنیچر کو لکھنؤ میں ایک اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے بھگوان رام اور کرشن کو لیکر عجیب و غریب بیان دیا۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک آزادی سے پہلے بھی سیاس ہوتی تھی۔انہوں نے کہا "بھگوان رام اور بھگوان کرشن نے بھی سیاست کی تھی۔

  • News18.com
  • Last Updated: Apr 28, 2018 06:25 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
' بھگوان رام بھی کرتے تھے سیاست،ان کا مقصد
وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ: فائل فوٹو

وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سنیچر کو لکھنؤ میں ایک اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے بھگوان رام اور کرشن کو لیکر عجیب و غریب بیان دیا۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک آزادی سے پہلے بھی سیاس ہوتی تھی۔انہوں نے کہا "بھگوان رام اور بھگوان کرشن نے بھی سیاست کی تھی۔رام کی سیاست کا مقصد "رام راجیہ "لانا تھا"۔


بتادیں کہ حال ہی میں وزیر اعظم مودی نے بی جے پی وزرا اور لیڈران کو غیر  ذمہ دارانہ بیان دینے سے بچنے کی صلاح دی تھی۔باوجود اس کے کچھ بی جے پی لیڈر اس طرح کے بیان سے رہے ہیں۔راجناتھ سنگھ سے پہلے تریپورا سی ایم اور بی جے پی لیڈر بپلب دیب بھی دو مرتبہ متناز ع بیان دے چکے ہیں۔بتادیں کہ بپلب دیب نے پہلے مہا بھارت کال میں انٹرنیٹ اور سٹیلائٹ فون ہونے کا دعوی کیا تھا۔پھر انہوں نے سابق مس ورلڈ ڈائنا ہیڈن کو لیکر قابل اعتراض بیان بازی کی ۔جس کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر کافی ٹرول بھی کیا گیا۔


در اصل پی ایم مودی نے نمو ایپ کے ذریعے سیدھی بات میں غیر ذمہ دارانہ بیان دینے پر بی جے پی کے لیڈران اور وزرا کو پھٹکار لگائی تھی۔پی ایم مودی کے سخت الفاظ میں کہا تھا کہ کہ "آپ میں سے کئی غیر مہ دارانہ بیان دیکر میڈٰا کو مصالحہ مہیہ کرا دیتے ہیں ۔پھر تنازعوں کیلئے میڈیا کو ذإہ دار ٹھہراتے ہیں ۔مودی نے کہا میڈیا اپنا کام کر رہا ہے"۔

مودی نے بی جے پی لیڈران کو انتباہ دیا تھا کہ انہیں اس طرح کی چیزوں سے بچنا چاہئے،کیونکہ ایسے بیانوں سے پارٹی کی شبیہ خرابہوتی ہے۔پی ایم مودی کی پھٹکار کے باوجود بی جے پی لیڈر متنازع بیان دینے سے باز نہیں آ رہے ہیں۔


First published: Apr 28, 2018 06:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading